مسافرطیارہ،فوجی ہیلی کاپٹرسےٹکراگیا،60 سے زائد ہلاک

مسافرطیارہ،فوجی ہیلی کاپٹرسےٹکراگیا،60 سے زائد ہلاک
کیپشن: مسافرطیارہ،فوجی ہیلی کاپٹرسےٹکراگیا،ہلاکتوں کا خدشہ

ویب ڈیسک: واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے۔ حادثہ مسافر طیارے کی رن وے پر لینڈنگ کے دوران پیش آیا۔ جس میں ہلاکتوں کی تعداد 60 سے تجاوز کرگئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ائیرلائن کی پرواز کینساس کے شہر وکیٹا سے واشنگٹن پہنچی تھی جہاں طیارے کو دریائے پوٹومک کے اوپر رن وے کے قریب حادثہ پیش آیا۔

فلائٹ ریڈار کے مطابق طیارے کو حادثہ مقامی وقت کے مطا ق شام 5 بجکر 48 منٹ پر پیش آیا، اس وقت طیارے کی رفتار 166 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی۔

رپورٹس کے مطابق بمبارڈیئر CRJ700 طیارے میں 78 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرانے کے بعد مسافر طیارہ پوٹومک دریا میں گرگیا۔ ٹکرانے کے بعد طیارے کے ٹکڑے ہوگئے تھے۔ 

امریکی حکام کا بتانا ہےکہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں 64 مسافر سوار تھے، حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق مسافر طیارے سے ٹکرانےوالے فوجی ہیلی کاپٹر میں 3 اہلکار سوار تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈرونز یا اڑن طشتریاں: امریکی فضاؤں میں پراسرارپروازیں،ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان وائرل

سی بی ایس نیوز نے پولیس کے حوالے سے کہا ہے کہ کم از کم 18 لاشیں دریا سے نکالی گئیں ہیں۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کی نئی سیکریٹری کرسٹی نوم نے نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ریسکیو کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

پولیس نے کہا ہے کہ دریا میں فائربوٹس امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں تاہم شدید اندھیرے اور سخت سردی کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکل پیش آ رہی ہے۔امدادی سرگرمیوں کے لیے غوطہ خوروں کو طلب کر لیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق مسافر طیارے سے ٹکرانے والا بلیک ہاک فوجی ہیلی کاپٹرتربیتی پرواز پر تھا۔

حادثے کے بعد ریگن نیشنل ائیرپورٹ پرتمام پروازیں معطل کردی گئی ہیں جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی فضائی حادثے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ فضائی حادثےسے متعلق پوری طرح سے آگاہ کیا گیا ہے، صورتحال کی نگرانی کر رہا ہوں، جیسے ہی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی فراہم کی جائیں گی۔

ائیر ٹریفک کنٹرول نے پائلٹ کو ہدایات کیوں نہیں دیں؟ صدر ٹرمپ کا سوال :

سرکاری بریفنگ لینے کے بعد سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ یہ اچھا نہیں ہوا ۔ رات میں مطلع مکمل صاف اور ہوائی جہاز کی روشنیاں جل رہی تھیں۔ ہوائی جہاز ایئرپورٹ تک پہنچنے کی معمول کی لائن پر تھا۔ ہیلی کاپٹر کافی دیر تک سیدھا جہاز کی طرف جا رہا تھا۔ ہیلی کاپٹر اوپر ، نیچے کیوں نہیں گیا، یا مڑا کیوں نہیں ؟ کنٹرول ٹاور نے ہیلی کاپٹر کو یہ پوچھنے کی بجائے کہ کیا انہوں نے جہاز دیکھا ۔ کچھ کرنے کی ہدایات کیوں نہیں دیں۔ یہ ایک بری صورتحال ہے جسے روکنا چاہیے تھا۔

ڈی سی فائر اور ای ایم ایس کے چیف جان ڈونیلی کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنوں کی پہلی ترجیح طیارہ حادثے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ کوئی زندہ بچا ہے کہ نہیں۔’ہمیں نہیں معلوم کہ کوئی زندہ بچ سکا ہے یا نہیں‘۔
جان ڈونیلی  نے کہا کہ امدادی کارروائیوں کا عمل ایک انتہائی پیچیدہ آپریشن ہے اور جائے حادثہ پر حالات انتہائی خراب ہیں۔ حادثے میں مسافروں کے زندہ بچنے کی امیدیں معدوم ہوتی جارہی ہیں۔
واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب رات آٹھ بج کر 58 منٹ پر امدادی کارکن جائے حادثہ پر پہنچے تو انھیں پانی میں گرا ہوا طیارہ ملا تھا۔


واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر نے پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے حادثے کو ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد دریائے پوٹومک میں ریسکیو آپریشن کو سرانجام دینے کے لیے واشنگٹن کے میٹروپولیٹن علاقے سے ہنگامی خدمات کے کارکن ’انتہائی تاریک اور سرد حالات میں مستعدی سے کام کر رہے ہیں۔
باؤزر کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکن ایئر لائنز کے اہلکار ہوائی اڈے پر موجود ہیں اور مسافروں کے اہل خانہ سے بات کر رہے ہیں۔میٹروپولیٹن واشنگٹن ایئرپورٹ اتھارٹی کے صدر جیک پوٹر کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد دریائے پوٹومک میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ٹیمیں اس وقت جائے حادثہ سے لوگوں کے بچاؤ کے آپریشن میں مصروف ہیں۔ 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر پیش آنے والے خوفناک حادثے کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے دعا کرتے ہوئے امدادی کارکنوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں صورتحال کی نگرانی کر رہا ہوں اور جیسے ہی تفصیلات سامنے آئیں گی فراہم کر دی جائیں گی۔ حادثے سے بچا جا سکتا تھا

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگزتھ کا کہنا ہے کہ ’آج رات کے واقعات بہت افسوسناک ہیں۔‘ ایکس پر ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ تلاش اور بچاؤ کی کوششیں جاری ہیں اور فوج اور محکمہ دفاع کی طرف سے فوری طور پر تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔

ورجینیا کے گورنر گلین ینگکن کا کہنا ہے کہ شمالی ورجینیا، واشنگٹن ڈی سی اور میری لینڈ بھر سے امدادی کارکن پوٹومک دریا پر ہونے والے حادثے کے بعد متحرک ہو چکے ہیں۔

ادھر امریکن ایئر لائنز کے سی ای او نے ایک ویڈیو میں تصادم کے بارے میں گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے رابرٹ آئسوم کا کہنا ہے کہ ایئر لائن مقامی، ریاستی اور وفاقی حکام کے ساتھ رابطہ کر رہی ہے اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی تحقیقات کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا ’ہم جو کچھ بھی کر سکتے ہیں، کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب روس کی سابق فگر اسکیٹنگ جوڑی کے جہاز میں سوار ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے۔روسی میڈیا کے مطابق یوجینیا شیشکووا اور وادیم نوموف طیارے میں سوار تھے۔

واشنگٹن طیارہ حادثہ پر وزیراعظم کا اظہار افسوس:

واشنگٹن میں مسافر طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان تصادم پر وزیراعظم نے اظہار افسوس کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان جاری کیا ہے۔ اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا ہے کہ رات گئے فوجی ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارے کے ٹکراؤ پر شدید رنج ہے۔ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں صدر ٹرمپ اور امریکی عوام کے ساتھ ہیں۔ وزیراعظم نے حادثے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں سے اظہار یکجہتی کی ہے۔

Watch Live Public News