43 سال پہلے بھی ایک طیارہ دریائے پوٹو مک میں گر کر تباہ ہوا

43 سال پہلے بھی ایک طیارہ دریائے پوٹو مک میں گر کر تباہ ہوا

ویب ڈیسک :  43سال پہلے بھی ایک   طیارہ دریائے پوٹومک میں گر کر تباہ ہوا تھا جس میں  74 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق  13 جنوری 1982 کو بھی ائیر فلوریڈا کاایک طیارہ دریائے پوٹومک میں گر کر تباہ ہوا تھا جس میں  74 افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ ایئر فلوریڈا کی فلائٹ 90 ارلنگٹن، ورجینیا، واشنگٹن ڈی سی کو ملانے والے 14ویں سٹریٹ برج سے ٹکرا کر گر گئی تھی۔ 

 واشنگٹن سے اڑان بھرنے والی ائیر فلوریڈا کی پرواز 90 ٹیک آف کرتے ہی پل سے ٹکرانے کے بعد منجمد پوٹومک دریا میں جاگری تھی ۔  پرواز کی منزل فورٹ لاڈرڈیل-ہالی ووڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ تھی۔

فیڈرل ایوی ایشن  FAA  کے مطابق  بوئنگ 737 میں سوار 70 مسافر اور عملے کے پانچ ارکان میں سے چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ لیکن پانچ دیگر افراد  کو ایک ڈرامائی ریسکیو کارروائی کے دوران  ڈوبتے ہوئے طیارے  سے باہر نکال لیا گیا تھا۔

طیارہ حادثہ کیوں ہوا؟

یہ حادثہ موسم سرما کے شدید طوفان کے درمیان پیش آیا جس نے شہر کو شدید برف باری اور سرد درجہ حرارت سے مفلوج کر دیا تھا۔ 

 تاہم شدید موسمی حالات  کے ساتھ ساتھ انسانی غلطی نے بھی  حادثے میں کردار ادا کیا۔

بعدازاں ایف اے اے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ " ہوائی اڈے پربرف ہٹانے کے لئے  طویل زمینی آپریشن کے دوران ہوائی جہاز کے پروں پر  برف جمع  ہوتی رہی جس نتیجے میں ایروڈینامک لفٹ میں کمی  ہوئی اور حادثہ پیش آیا۔"

پل کا نام   آرلینڈ ڈی ولیمز برج کیوں  رکھا گیا؟

ایک مسافر 46 سالہ   آرلینڈ ڈی ولیمز، جونیئر،  جو طیارے  حادثے میں  خود محفوظ رہے  کم ازکم پانچ مسافروں کی جانیں بچائیں لیکن اس کوشش کے دوران وہ خود اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

جون 1983 میں، اس وقت کے صدر رونالڈ ریگن نے اٹلانٹا سے تعلق رکھنے والے آرلینڈ ڈی ولیمز ک کو نہ صرف کوسٹ گارڈ کا گولڈ لائف سیونگ میڈل دیا بلکہ پل کا نام بھی ان نے نام سے منسوب کردیا اب یہ پل آرلینڈ ڈی ولیمز جونیئر میموریل برج کے نام سے جانا جاتا ہے۔

Watch Live Public News