(ویب ڈیسک): امریکا کے مختلف حصوں میں جاری شدید گرمی کی لہر نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کر دیا ہے، جہاں درجہ حرارت 100 فارن ہائیٹ (تقریباً 38 ڈگری سینٹی گریڈ) سے تجاوز کر گیا ہے۔ موسمیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں گرمی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق ریاستیں جیسے ٹیکساس، ایریزونا، نیواڈا اور کیلی فورنیا بدترین ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں۔ حکام نے ان ریاستوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کو گھروں میں رہنے اور غیر ضروری سرگرمیوں سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
بجلی کا نظام دباؤ کا شکار
شدید گرمی کے باعث کولنگ سسٹمز کے زیادہ استعمال سے بجلی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی کی بندش اور ہیٹ اسٹروک کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
معمر افراد اور بچے خطرے میں
طبی ماہرین نے کہا ہے کہ بزرگ، بیمار اور کم عمر بچے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کی دیکھ بھال اور مناسب ہائیڈریشن نہایت ضروری ہے۔
حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ پانی کا زیادہ استعمال کریں، دھوپ سے بچیں، اور مقامی الرٹ سسٹمز سے باخبر رہیں۔