سائنسدانوں کا دنیا کی قدیم ترین چٹان دریافت کرنے کادعویٰ

سائنسدانوں کا دنیا کی قدیم ترین چٹان دریافت کرنے کادعویٰ
کیپشن: سائنسدانوں کا دنیا کی قدیم ترین چٹان دریافت کرنے کادعویٰ

ویب ڈیسک: شمالی کیوبیک کے دور دراز علاقے میں واقع Nuvvuagittuq گرین اسٹون بیلٹ نامی چٹانی سلسلہ، جو کینیڈا کی ہڈسن بے کے مشرقی ساحل پر واقع ہے، طویل عرصے سے زمین کی قدیم ترین چٹانوں کی تلاش میں سائنسدانوں کے درمیان بحث کا مرکز رہا ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق اب نئی تحقیق کے مطابق یہ چٹانیں زمین کی ابتدائی ترین ہادیئن عہد (Hadean Eon) سے تعلق رکھتی ہیں، اور ان کی عمر تقریباً 4.16 ارب سال بتائی گئی ہے۔ ہادیئن عہد وہ دور تھا جب زمین گرم، غیر مستحکم اور "انتہائی گرم" حالت میں تھی۔

تحقیق کے اہم نکات:

تحقیق کے مرکزی مصنف جوناتھن او نیل، جو یونیورسٹی آف اوٹاوا میں ارضیاتی ماہر ہیں، کا کہنا ہے کہ "چٹانیں ماہرین ارضیات کے لیے کتابوں کی مانند ہوتی ہیں۔ اگر ہادیئن دور کی چٹانیں ہمارے پاس نہیں، تو Nuvvuagittuq کم از کم اس کتاب کا ایک صفحہ ضرور ہے۔"

او نیل اور ان کی ٹیم نے چٹانوں میں موجود نایاب عناصر ساماریم (Samarium) اور نیوڈیمیم (Neodymium) کی تابکار تحلیل (radioactive decay) کا استعمال کر کے یہ عمر معلوم کی، کیونکہ ان عناصر کا استعمال ایسے پتھروں کی تاریخ معلوم کرنے میں ہوتا ہے جو 4 ارب سال سے زائد پرانے ہوں۔

 زرقون کی عدم موجودگی

زیادہ تر قدیم چٹانوں کی تاریخ جاننے کے لیے "زرقون" (Zircon) نامی سخت معدنیات استعمال کی جاتی ہے، مگر Nuvvuagittuq گرین اسٹون بیلٹ میں زرقون موجود نہیں یا بعد میں بنے ہیں، اس لیے سائنسدانوں کو متبادل طریقہ استعمال کرنا پڑا۔

 سائنسی دنیا کا ردعمل

تحقیق کو سراہنے کے ساتھ کچھ ماہرین نے محتاط رویہ بھی اپنایا ہے:

برنارڈ بورڈن (فرانسیسی ماہر ارضیات) نے کہا کہ یہ نئی تحقیق 2008 کی متنازعہ تحقیق سے بہتر ہے، کیونکہ اس بار دونوں استعمال شدہ طریقوں نے ایک ہی عمر ظاہر کی ہے۔
ہیوگو اولیروک (آسٹریلوی سائنسدان) نے خبردار کیا کہ چونکہ مکمل چٹانی نمونہ استعمال کیا گیا ہے جس میں کئی معدنیات ہوتی ہیں، اس لیے اگر ایک بھی معدنیہ متاثر ہو جائے تو نتائج پر اثر پڑ سکتا ہے۔
پین اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر جیس ریمنک نے کہا کہ اگر یہ چٹانیں صرف 3.8 ارب سال پرانی بھی ہوں، تب بھی یہ امر حیران کن ہے کہ وہ اتنے عرصے تک محفوظ رہیں۔

 زمین اور زندگی کے آغاز کی جھلک

تحقیق کے مطابق یہ چٹانیں زمین کے اس دور سے تعلق رکھتی ہیں جب زندگی کا آغاز ہوا۔ بعض ماہرین کے مطابق اس مقام سے پہلے بھی زندگی کے آثار، جیسے خوردبینی فوسلز اور بیکٹیریا کے بنائے گئے ریشے، دریافت ہو چکے ہیں۔

ڈومینک پاپینو، جو چین کی اکیڈمی آف سائنسز سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ اگر یہ چٹانیں واقعی 4.16 ارب سال پرانی ہیں تو یہ نہ صرف زمین کی پیدائش بلکہ کائنات میں زندگی کی موجودگی کے امکانات کو بھی بڑھا دیتی ہیں۔

Watch Live Public News