ویب ڈیسک: عصر حاضر میں موبائل فون کے بغیر زندگی کا تصور تقریباً ناممکن لگتا کیونکہ افراتفری کی زندگی میں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ خود جا کر اپنا پیغام دے سکے اس لئے موبائل فون کو ترجیح دی جاتی ہے۔
مگر یہ ڈیوائسز مسلسل استعمال سے بتدریج سست ہونے لگتی ہیں اور بیشتر افراد انہیں کبھی ری اسٹارٹ کرنے کا سوچتے نہیں۔
مگر یہ عادت ڈیوائس کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق 50 فیصد سے زیادہ اسمارٹ فون صارفین کبھی اپنی ڈیوائسز کو سوئچ آف نہیں کرتے۔
اگر آپ کو بھی فون بند کرنے کا خیال انزائٹی کا شکار بناتا ہے تو جان لیں ڈیوائس کو سوئچ آف کرنا فون کی زندگی اور کارکردگی دونوں کے لیے بہترین طریقہ کار ہے۔
ماہرین کے مطابق اسمارٹ فون کا خیال رکھنے والی سادہ ٹپس جیسے اسے ری اسٹارٹ کرنے سے فون کی کارکردگی میں ڈرامائی بہتری آتی ہے۔
موبائل فون کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ہفتے میں ایک بار اس کو ضرور ری اسٹارٹ کرنا چاہیے، ایک منٹ تک اس کو بند رہنے دیا جائے اور پھر آن کرلیں۔
اسے عادت بنانے سے فون cache کی صفائی کے ساتھ ساتھ ایسی ہر ایپ بند ہوجاتی ہے جو ڈیوائس کو سست بنانے کا باعث بنتی ہے، اسی طرح میموری لیکس نامی ایرر (error) کی روک تھام ہوتی ہے۔
یہ ایک ایسا عام ایرر ہے جس کا سامنا بیشتر اسمارٹ فون صارفین کو ہوتا ہے،جب ایک ایپ کو کام کرنے کے لیے ریم میموری کی ایک مخصوص سطح کی ضرورت ہو مگر ضرورت ختم ہونے پر وہ ایپ میموری کو ریلیز نہ کرے تو اسے میموری لیک ایرر کہا جاتا ہے، اس کے نتیجے میں فون معمول کے مقابلے میں زیادہ سست محسوس ہونے لگتا ہے۔
اگر آپ کے فون کی کارکردگی اچانک بہت زیادہ سست ہوجائے تو اس مسئلے کے پیچھے زیادہ تر میموری لیک کا ہاتھ ہوتا ہے۔
فون کو ہفتے میں ایک بار آف کرنے کا ایک اور فائدہ بیٹری لائف بڑھانا بھی ہے۔
عام طور پر ایک اسمارٹ فون بیٹری کو 300 سے 500 بار چارج کیا جاسکتا ہے، یعنی اتنی بار کسی بیٹری کو 100 فیصد چارج کیا جائے اور وہ پھر 0 فیصد تک پہنچ جائے(یہ اوسط اعدادوشمار ہیں کچھ فونز کا چارج سائیکل اس سے زیادہ یا کم بھی ہوسکتا ہے)۔
اس چارج سائیکل کے بعد آپ کی ڈیوائس کی مجموعی پرفارمنس پہلے جیسی نہیں رہتی اور چارجنگ گنجائش بھی گھٹ جاتی ہے، فون کو ٹرن آف کرنے سے بیٹری لائف کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے جس سے فون کی زندگی بھی بڑھتی ہے۔