ویب ڈیسک: سال 2025 کا حج سیزن شروع ہو چکا ہے اور اس مرتبہ سعودی عرب نے شدید گرمی کے خدشات کے پیشِ نظر غیر معمولی حفاظتی اقدامات متعارف کرائے ہیں تاکہ حجاج کرام کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
سعودی وزیرِ حج و عمرہ ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے میڈیا کو بتایا کہ شدید گرمی اس سال بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال درجہ حرارت 51.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا، جس کے نتیجے میں 1300 سے زائد عازمینِ حج کا انتقال ہوا۔ اس افسوسناک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سال حکام نے تیاریوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 40 سے زائد سرکاری ادارے اور 2 لاکھ 50 ہزار اہلکار حج آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 50 ہزار مربع میٹر پر محیط سایہ دار مقامات کا اضافہ کیا گیا ہے، طبی عملے کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور 400 سے زائد کولنگ یونٹس بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔
وزیر حج کے مطابق، مکہ مکرمہ کی نگرانی جدید ڈرونز اور اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جائے گی تاکہ صورتحال پر فوری ردعمل دیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بغیر اجازت نامے کے حجاج کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس لیے ضروری ہے کیونکہ گزشتہ سال حج کے دوران ہونے والی 80 فیصد اموات ایسے افراد کی تھیں جن کے پاس اجازت نامہ نہیں تھا اور وہ اہم سہولیات جیسے ائیر کنڈیشنڈ خیموں سے محروم رہے۔
توفیق الربیعہ نے واضح کیا کہ مملکت حج کو ایک مقدس ذمہ داری سمجھتی ہے اور حجاج کی حفاظت و روحانی سکون کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں اور تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ اجازت نامے کی شرط کو سنجیدگی سے لیں اور سعودی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔