ویب ڈیسک: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان غزہ امن فورس کے تحت فوجی دستے بھیجنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے ٹی او آر، مینڈیٹ اور کردار کو واضح طور پر طے کرنے کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دائرہ کار میں آتا ہے، اور پاکستان اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے معاملے پر انڈونیشیا نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں پاکستانی فوجی دستوں کی شرکت کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اس فورس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سے مشورہ کرنے کے بعد فورس بھیجنے کے بارے میں اصولی اعلان کیا ہے۔
وزیر خارجہ نے اس موقع پر مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کی درخواست پر پاکستان آج ہی افغان عوام کے لیے کھانے پینے کی اشیاء اور انسانی امداد بھیجنے کا فیصلہ کرے گا۔