ویب ڈیسک: متنازعہ ٹوئٹ کیس میں نئی پیشرفت سامنے آگئی۔ عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کردی۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف متنازعہ ٹویٹ کیس پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف فرد جرم عائد کردی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی کیجانب سے صحت جرم سے انکار کردیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس پر سماعت کی۔ عدالت نے اگلی سماعت پر استغاثہ کے تمام گواہان کو طلب کر لیا۔
عدالت نے ہادی علی چٹھہ کو دوبارہ ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیدیا۔
جج اور ہادی علی چٹھہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ:
دوران سماعت جج اور ہادی علی چٹھہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ ہادی علی چٹھہ نے جج کیساتھ تلخ جملوں کا تبادلہ کرتے ہوئے کہا کہ میں مچلکے نہیں بھروں گا آپ نے سال جیل میں رکھنا ہے رکھیں۔ آپ نے کل غیر قانونی کام کیا ہے آپ جج بننے کے اہل نہیں ہیں۔
ایمان مزاری نے کہا کہ آپ ہمیں گرفتار کروانا چاہتے ہیں۔ میری بھی ضمانت کینسل کروا دیں۔ جج افضل مجوکہ نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میرا اصول ہے کہ میں آپکو عزت دوں گا تو مجھے عزت ملے گی۔
وکیل صفائی قیصرامام نے اپنے دلائل میں کہا کہ سر انہوں نے دیگر کیسز میں بھی پیش ہونا ہوتا ہے، کبھی ہائیکورٹ کبھی راولپنڈی۔
اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ میں نے اس وجہ سے انکے کہنے پر تین دفعہ سماعت ملتوی کی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 نومبر تک ملتوی کردی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔