باجوڑ آپریشن میں ہلاک ہونے والا قاری امجد کون تھا؟ سنسنی خیز حقائق سامنے آگئے

باجوڑ آپریشن میں ہلاک ہونے والا قاری امجد کون تھا؟ سنسنی خیز حقائق سامنے آگئے

ویب ڈیسک: پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی/فتنہ الخوارج) کے نائب امیر قاری امجد عرف مفتی حضرت یا مفتی مزاحم کو ہلاک کردیا گیا ہے، یہ کارروائی گزشتہ رات باجوڑ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کے دوران کی گئی۔

قاری امجد دہشتگرد تنظیم کا دوسرا بڑا رہنما تھا اور اسے پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں دہشتگرد نیٹ ورک کا مرکزی منصوبہ ساز سمجھا جاتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق امجد عرف مزاحم، دہشتگرد نور ولی کا نائب اور بھارتی حمایت یافتہ ’فتنہ الخوارج‘ کی رہبری شوری کا سربراہ تھا۔

 کون تھا قاری امجد؟
قاری امجد، جس کا اصل نام مفتی حضرت علی بتایا جاتا ہے، کا تعلق سمر باغ، لوئر دیر سے تھا جبکہ وہ حالیہ برسوں میں افغانستان کے صوبہ کنڑ کے علاقے ڈنگم میں مقیم تھا، اس کے کئی عرفی نام تھے، جن میں مفتی مظاہم، مفتی امجد، مفتی حضرت دیرو جی شامل ہیں۔

قاری امجد  17 اپریل 1979 کو پیدا ہوا جو کہ ڈنگم، کنڑ (افغانستان)  میں رہائش تھی، امریکا نے 25 مارچ 2023 کو اسے عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا، وہ ٹی ٹی پی کے نائب امیر کے طور پر عمران خراسانی اور مولوی فقیر محمد کے ساتھ تعینات ہوا تھا۔
  دہشتگرد سرگرمیاں
قاری امجد کو پاکستان میں کئی خونریز حملوں اور بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا، حکومت پاکستان نے اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔ وہ افغانستان میں مقیم رہ کر پاکستان میں متعدد دہشتگرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہا۔

خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا میں خودکش دھماکوں کی منصوبہ بندی کی، سکیورٹی قافلوں پر IED حملوں اور شہری تنصیبات پر حملوں میں ملوث رہا، ڈرون اور کوآڈ کاپٹر ٹیموں کی نگرانی کرتا تھا، جو سرحدی چوکیوں پر بم گراتی تھیں۔

طالبات کے اسکولوں کی تباہی اس کے نظریات کی شدت پسندی کی علامت تھی، نئے بھرتی ہونے والے شدت پسندوں کو سرحد پار حملوں اور گھات لگا کر حملے کرنے کی تربیت دیتا تھا۔

سکیورٹی فورسز  کی کارروائی
اطلاعات کے مطابق قاری امجد دو ہفتے قبل باجوڑ پہنچا تھا، جہاں وہ اپنے نیٹ ورک کو فعال کرنے کی کوشش میں تھا، پاکستانی خفیہ اداروں نے اس کی نقل و حرکت کو ٹریس کیا اور خصوصی دستوں نے کارروائی کرتے ہوئے اسے ہلاک کر دیا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست پاکستان دہشت گردی کے خلاف مکمل زیرو ٹالرنس پالیسی پر کاربند ہے۔
 

Watch Live Public News