چین میں ہاتھوں کے ناخن دوا قرار، آن لائن فروخت کا نیا رجحان

چین میں ہاتھوں کے ناخن دوا قرار، آن لائن فروخت کا نیا رجحان
کیپشن: چین میں ہاتھوں کے ناخن دوا قرار، آن لائن فروخت کا نیا رجحان

ویب ڈیسک: اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کاٹے گئے ناخن کسی کام نہیں آتے تو آپ کی رائے شاید بدل جائے۔ چین میں ان دنوں لوگ اپنے ہاتھوں کے ناخن آن لائن فروخت کر رہے ہیں، اور خریدار زیادہ تر روایتی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہیں۔

چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہاتھوں کے ناخن، جنہیں عام طور پر فضلہ یا کراہت انگیز شے سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے، روایتی چینی طب میں قیمتی دوا تصور کیے جاتے ہیں۔ ان ناخنوں کو بچوں کے پیٹ پھولنے اور ٹانسلز جیسے امراض کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔

روایتی ادویات میں استعمال
دیہات اور اسکولوں سے اکٹھے کیے جانے والے ناخن پہلے دھو کر خشک کیے جاتے ہیں اور پھر باریک سفوف میں تبدیل کر کے مختلف ادویات میں شامل کیے جاتے ہیں۔

ناخنوں کی افزائش اور قیمت
ماہرین کے مطابق ایک بالغ انسان کے ناخن اوسطاً ایک سال میں صرف 100 گرام تک بڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مطلوبہ مقدار میں ناخن حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے اور ان کی قیمت بھی نسبتاً زیادہ رہتی ہے۔

چینی پلیٹ فارم " کانکان نیوز" کے مطابق صوبہ ہیبئی کی ایک خاتون نے حال ہی میں اپنے ناخن 150 یوان (تقریباً 21 امریکی ڈالر) فی کلوگرام کے حساب سے فروخت کیے۔ وہ کئی برسوں سے اپنے ناخن جمع کر رہی تھیں اور اب انہیں بیچ کر کچھ آمدنی حاصل کی۔

تاریخی پس منظر اور نئی مقبولیت
انسانی ناخنوں کا استعمال چین میں 1960 کی دہائی تک عام تھا، تاہم نیل پالش کے بڑھتے استعمال نے انہیں آلودہ قرار دے دیا اور وقت کے ساتھ متبادل اجزاء ادویات میں شامل کر لیے گئے۔ مگر اب ایسا لگتا ہے کہ ناخن ایک بار پھر روایتی طب میں جگہ بنا رہے ہیں۔

پیروں کے ناخن مسترد
دلچسپ بات یہ ہے کہ ناخن خریدنے والی کمپنیاں واضح طور پر کہہ چکی ہیں کہ وہ صرف ہاتھوں کے ناخن خریدتی ہیں۔ پیروں کے ناخن غیر مناسب اور ناقابل قبول سمجھے جاتے ہیں۔

Watch Live Public News