شانگلہ: میکے سےواپسی پر12 سالہ لڑکی نےزہر کھاکرمبینہ خودکشی کرلی

شانگلہ: میکے سےواپسی پر12 سالہ لڑکی نےزہر کھاکرمبینہ خودکشی کرلی
کیپشن: شانگلہ: میکے سےواپسی پر12 سالہ لڑکی نےزہر کھاکرمبینہ خودکشی کرلی

ویب ڈیسک: خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے داموڑئی میں 12 سالہ شادی شدہ بچی عائشہ (فرضی نام) نے مبینہ طور پر زہریلی دوا کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ پولیس حکام کے مطابق بچی کی شادی چھ ماہ قبل اپنے 10 سالہ کزن سے کی گئی تھی، جو پاکستانی قانون کے تحت ایک سنگین جرم ہے۔

اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق عائشہ 27 ستمبر کو اپنے میکے سے واپس سسرال آئی تھی۔ اسی روز دوپہر کے وقت اچانک اس کی طبیعت خراب ہوئی، اسے الٹیاں اور دست شروع ہوئے اور چند ہی لمحوں میں وہ دم توڑ گئی۔ گھر والوں کے مطابق وہ کھانے کے دوران اچانک بیمار پڑی۔

اردونیوز نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال الپوری منتقل کیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم کے لیے نمونے حاصل کیے گئے۔ ڈاکٹروں نے ابتدائی رپورٹ میں بتایا کہ جسم پر تشدد کے کوئی نشانات نہیں ملے، تاہم زہریلے مادے کی علامات پائی گئی ہیں۔ نمونے مزید تحقیقات کے لیے پشاور بھیجے گئے ہیں جن کی حتمی رپورٹ 10 سے 15 دن میں سامنے آئے گی۔

ایس ایچ او اولندر علی حسین کے مطابق یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا بچی نے خودکشی کی یا اسے زبردستی زہریلا مادہ دیا گیا۔ پولیس نے دفعہ 176 ضابطہ فوجداری کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں اور تین خصوصی تفتیشی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ ڈی پی او شانگلہ شاہ حسن خان نے اس کیس کو خصوصی توجہ کے ساتھ حل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

ابتدائی شواہد کے مطابق شادی جرگے کی رضامندی سے کرائی گئی تھی، لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ نابالغ بچوں کی شادی قانوناً جرم ہے۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ نکاح پڑھانے والے مولوی، جرگے کے شرکا اور تقریب میں شریک افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں، جبکہ لڑکی اور لڑکے کے والدین کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

مقامی آبادی کی جانب سے اگرچہ اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے اور روایات کو ترجیح دینے کا رجحان پایا جاتا ہے، لیکن پولیس نے واضح کیا ہے کہ قانون سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے اور نابالغ کی شادی کرنے والوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔

Watch Live Public News