ویب ڈیسک: غیر قانونی سمندر کے راستے اسپین بھجوانے میں ملوث متعدد گینگ بے نقاب کرلیے گئے۔ جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیاہے۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن نے اسلام آباد ائرپورٹ پر بڑی کارروائی کی ہے۔ جس کے نتیجہ میں بیرون ملک سے آنے والے 7 مسافروں سے پوچھ گچھ جاری ہے جبکہ سہولتکاری میں ملوث ملزم کو تحویل میں لے لیا گیاہے۔مسافروں کی شناخت مہتاب، محمد خلیق، گل شامیر، وسیم، علی حسن، بلاول اقبال اور عمر فاروق کے نام سے ہوئی ہے۔جبکہ سہولتکاری میں ملوث ملزم کی شناخت عبدالغفار کے نام سے ہوئی۔
مسافروں کا تعلق گجرات، شیخوپورہ، سیالکوٹ، منڈی بہاءلدین، ناروال اور راولپنڈی سے ہے۔ مسافر فلائٹ نمبر QR614 اور EK612 کے ذریعے اسلام آباد ائرپورٹ پہنچے۔مسافروں نے غیر قانونی طریقے سے اسپین براستہ دبئی، سینیگال جانے کی کوشش کی ۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق مسافروں نے ایجنٹوں سے اسپین جانے کے لئے لاکھوں روپے فی کس میں معاملات طے کیے ۔ایجنٹوں نے شہریوں کو وزٹ ویزے پر دبئی، ایتھوپیا اور بعد ازاں سینیگال بھجوایا۔سینیگال سے ایجنٹوں نے سمندر کے راستے شہریوں کو اسپین بھجوانے کی کوشش کی ۔ایجنٹوں کے جانب سے متاثرین کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
مسافروں سے ایجنٹوں اور سہولتکاروں کے حوالے سے معلومات لی جارہی ہیں۔ابتدائی تفتیش کے مطابق ایجنٹوں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔
ترجمان ایف آئی اے نے بیان میں کہا ہے کہ شہریوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ بیرون ملک جانے کے لئے ہمیشہ متعلقہ ملک کی ایمبیسی سے رابطہ کریں۔اپنے ذاتی دستاویزات غیر متعلقہ شخص کے حوالے نہ کریں۔ انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لئے ایف آئی اے کے قریبی سرکل وزٹ کریں۔
دوسری جانب ایف آئی اے نے پشاور میں بھی وزیر داخلہ محسن رضا نقوی کی ہدایات پر انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا۔ اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل پشاور نے انسانی سمگلنگ میں ملوث بدنام زمانہ لینڈ روٹ ایجنٹ گرفتار کرلیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم گل محمد کو پشاور سے گرفتار کیا گیا ،ملزم سادہ لوح شہریوں کو غیر قانونی طور پربیرون ملک بھجوانے میں ملوث ہے۔ملزم شہریوں کو غیر قانونی بارڈر پار کروانے اور انسانی سمگلنگ میں مطلوب ملزمان کی فہرست میں شامل ہے۔
ڈائریکٹر پشاور زون کے مطابق ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ملزمان کی گرفتاری کے لئے خصوصی چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی گئی۔ ٹھوس شواہد کی روشنی میں ملزمان کو قرار واقعی سزائیں دلوائیں گے۔