ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت میں قائم سات کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان بھارتی کمپنیوں پر شبہ ہے کہ وہ امریکی ساختہ حساس پرزہ جات اور جدید ٹیکنالوجی کو غیر قانونی اور غیر شفاف طریقوں سے حاصل کر رہی تھیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کمپنیاں مبینہ طور پر ایسی ٹیکنالوجی کے حصول میں ملوث رہی ہیں، جن کا استعمال عسکری اور سویلین دونوں مقاصد کے لیے ہو سکتا ہے، جسے "دوہری استعمال" (Dual Use) کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان کمپنیوں کی سرگرمیوں کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
امریکہ نے ان کمپنیوں کو اپنی "Entity List" میں شامل کر دیا ہے۔ اس فہرست میں شامل اداروں کے ساتھ کاروباری روابط قائم کرنے کے لیے امریکی کمپنیوں کو اب حکومت سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد امریکی برآمدی قوانین اور بین الاقوامی سلامتی کے اصولوں کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کرنا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے مذکورہ بھارتی کمپنیوں کی عالمی سطح پر تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو سکتی ہیں، کیونکہ اب انہیں امریکی مصنوعات اور ٹیکنالوجی تک براہ راست رسائی حاصل نہیں ہوگی۔
ادھر بھارتی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں اس فیصلے پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشرفت پاک–امریکا تجارتی معاہدے اور بھارت پر بڑھتے ہوئے امریکی دباؤ کا ایک واضح اشارہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے حالیہ اقدامات جنوبی ایشیائی خطے میں نئی تجارتی و سفارتی صف بندی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس کے اثرات مستقبل قریب میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔