امریکا کے ساتھ بڑا تجارتی معاہدہ، پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہونگے؟

امریکا کے ساتھ بڑا تجارتی معاہدہ، پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہونگے؟

ویب ڈیسک: بھارتی حکومت کو بڑا دھچکا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں ایک اہم تجارتی معاہدے کا اعلان کیا گیا، اس پیش رفت کا مقصد نہ صرف دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا ہے بلکہ امریکی تجارتی خسارے کو بھی کم کرنا ہے۔

تفصیلات کےمطابق توانائی کے شعبے میں کئے جانے والے اس معاہدے نے پاک امریکہ تعلقات کو مزید تقویت دی ہے جبکہ مودی سرکاری اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور بے بنیاد، گمراہ کن بیانات دے رہی ہے جبکہ امریکی صدر کے پاکستان کے ساتھ اس معاہدے سے بھی مایوس ہے اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کررہی ہے۔ 

امریکہ کے اس معاہدے سے دونوں ممالک پاکستان کے تیل کے وسیع ذخائر کی ترقی کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کچھ پاکستانیوں کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ پاکستان کو اس سے کیا فوائد حاصل ہوں گے؟ 

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ امریکا اور پاکستان کی تجارتی ڈیل پاک امریکا تعلقات کے لیے ایک اہم ڈیل ہے، اب پاکستان کے لیے امریکا کی جانب سے عائد ٹیرف میں کمی کا امکان بڑھ گیا ہے۔ امریکا نے پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، امریکا کا پاکستان میں تیل کے ذخائر پر انویسٹ کرنے کا اعلان بہت خوش آئند ہے۔ کسی اور ملک کے ساتھ امریکا نے یہ بات نہیں کی ہے۔ امریکا کے ساتھ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، کرپٹو پر بھی بات ہوئی ہے جس پر امریکا نے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

خرم شہزاد نے کہا کہ امریکا پاکستان تجارتی ڈیل سے پاکستان میں ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ پاکستان اپنی ایکسپورٹ کو بڑھا سکے۔ ٹیکسٹائل، زراعت، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان ترقی کر سکے۔ اب پاکستان اور امریکا کے تجارتی تعلقات بہت اچھے ہو جائیں گے جس سے پاکستانی حکومت اور یہاں پر مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کو بڑا فائدہ ہوگا۔

ماہر معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان سے امریکا کی ایکسپورٹس 6 ارب ڈالرز تک ہیں جبکہ امپورٹس ڈیڑھ سے 2 ارب ڈالرز ہیں۔ اس ڈیل کا مقصد یہ ہے کہ اس فرق کو  کم کیا جا سکے۔ اس ڈیل سے پاکستان کو موقع ملے گا کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنی آئی ٹی، ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کو بہتر کر سکے۔ پاکستان کی مائنز پر کسی نے زیادہ توجہ نہیں دی،  اب امید نظر آ رہی ہے کہ پاکستان 2029 تک ریکو ڈک کی ایکسپورٹ شروع کر دے گا۔

Watch Live Public News