ویب ڈیسک: پنجاب میں فضائی آلودگی اور اسموگ کی صورتحال بدترین حدوں کو چھو رہی ہے، جہاں فیصل آباد فضائی آلودگی میں سب سے آگے جبکہ گجرانوالہ اور ملتان بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
عالمی ادارے آئی کیو ائیر (IQAir) کے مطابق فیصل آباد میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 554، گجرانوالہ میں 546، ملتان میں 478، لاہور میں 471 اور بہاولپور میں 389 ریکارڈ کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بعض مقامات پر آلودگی کی سطح 500 اے کیو آئی تک پہنچ گئی، جو انتہائی خطرناک زمرے میں آتی ہے۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی صورتحال مزید سنگین رہی۔ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ آفس راوی روڈ پر اے کیو آئی 980، جی تھری انجینئرنگ کونسل میں 790، جبکہ ڈی ایچ اے فیز 8 میں 759 ریکارڈ ہوا۔ ائیر کوالٹی انڈیکس پنجاب کے مطابق برکی روڈ اور ایجرٹن روڈ پر 500، واہگہ بارڈر پر 394 اور سفاری پارک میں 384 ریکارڈ کیا گیا۔
ادارہ تحفظِ ماحولیات کے مطابق، اسموگ کی ایک بڑی وجہ بھارتی علاقوں ہریانہ، لدھیانہ، پٹیالہ اور جالندھر سے آنے والی آلودہ ہوائیں ہیں جو لاہور، فیصل آباد، قصور اور گجرانوالہ کے فضائی معیار پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، فضا میں باریک ذرات اور آلودہ گیسوں کے جمع ہونے سے اسموگ کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ آج ایئر کوالٹی انڈیکس 330 سے 370 کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ لاہور میں فضائی معیار آج بھی غیر صحت بخش رہے گا۔ صبح، شام اور رات کے اوقات میں آلودگی کی شدت بڑھنے جبکہ دوپہر میں معمولی بہتری کی توقع ہے۔ شہریوں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے بتایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر انسدادِ اسموگ اقدامات میں تیزی لائی گئی ہے۔ صوبے کے 12 محکمے مشترکہ ایکشن پلان پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق، کھیتوں میں باقیات جلانے پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت 10 ہزار سے زائد نوٹسز جاری کیے گئے، 190 سے زائد فیکٹریاں اور بھٹے بند کیے گئے اور بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف زِگ زیگ ٹیکنالوجی والے ماحول دوست بھٹوں کو چلانے کی اجازت ہے، جبکہ 1200 سے زائد ٹیمیں فیلڈ میں مانیٹرنگ اور موقع پر کارروائیاں کر رہی ہیں۔ تعمیراتی سائٹس پر ڈسٹ کنٹرول ایس او پیز پر بھی سختی سے عملدرآمد کرایا جا رہا ہے۔
حکومتِ پنجاب کا کہنا ہے کہ وہ عوامی صحت کے تحفظ، سموگ کے خاتمے اور صاف فضا کی بحالی کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔