ویب ڈیسک: آسٹریا کی 31 سالہ معروف بیوٹی انفلوئنسر اور میک اپ آرٹسٹ اسٹیفنی پیپر کی پانچ روز سے جاری گمشدگی کا معمہ آخرکار حل ہوگیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسٹیفنی کی لاش سلووینیا کے جنگل میں ایک سوٹ کیس سے برآمد ہوئی، جس سے دونوں ممالک میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسٹیفنی کو آخری مرتبہ ایک ہالیڈے پارٹی میں دیکھا گیا تھا، جہاں انہوں نے اپنے دوستوں کو ایک سیاہ سایہ دیکھنے کا پیغام بھیجا تھا، جس کے بعد ان پر خدشات ظاہر کیے گئے کہ کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہے۔ پانچ روز تک تفتیش کے بعد پولیس کو سلووینیا کے جنگل میں سوٹ کیس سے ان کی لاش ملی۔
تحقیقات میں گتھی اس وقت سلجھی جب پولیس نے اسٹیفنی کے سابق بوائے فرینڈ کو حراست میں لیا۔ ملزم نے دورانِ تفتیش اسٹیفنی کا گلا گھونٹ کر قتل کرنے کا اعتراف کیا اور لاش کی جگہ بھی بتائی۔ شواہد سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ملزم کئی بار اپنی کار کے ذریعے سلووینیا گیا اور قتل کے بعد کئی روز تک غائب رہا۔
اسٹیفنی پیپر آسٹریا کے شہر گراز میں سلووینیا کی سرحد کے قریب رہائش پذیر تھیں۔ وہ انسٹاگرام پر بیوٹی ٹپس، میک اپ لکس اور پروڈکٹ ریویوز شیئر کرتی تھیں اور ملک کی مشہور بیوٹی انفلوئنسر اور میک اپ آرٹسٹ کے طور پر جانی جاتی تھیں۔