ویب ڈیسک : حماس نے مزید تین اسرائیلی فوجی رہا کردئیے،،، اسرائیل نے رہائی پانے والے 183 فلسطینی قیدیوں کی فہرست ریڈکراس کے حوالے کردی۔رفح کی سرحد بھی آج کھل جائے گی۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں فائر بندی معاہدے کے تحت آج قیدیوں کی رہائی کا چوتھا تبادلہ ہواہے جس میں اسرائیلی جیلوں میں قید 183 فلسطینیوں کے بدلے میں تین اسرائیلیوں کو رہا کردیا گیا۔
حماس کی جانب سے رہا کیے جانیوالے قیدیوں میں سے ایک کی دہری امریکی شہریت اور ایک کی دہری فرانسیسی شہریت ہے۔
حماس کے ترجمان ابو عبیدہ کے مطابق یارڈن بیبس، کیتھ سیگل اور اوفر کلدرون اسرائیل کے حوالے کردیا گیا ہے۔
حماس نے اب تک 15 قیدیوں کو بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے حوالے کیا ہے جس کے بدلے میں سینکڑوں فلسطینی قیدی، جن میں زیادہ تر خواتین اور نابالغ شامل ہیں، اسرائیلی جیلوں سے رہا ہوئے ہیں۔
سات اکتوبر، 2023 کو حماس نے سیگل کو کفار عزہ کبوتز سے اور کبوتز نیر اوز سے کلدرون اور بیبس کو پکڑا تھا۔
اس دن مجموعی طور پر 251 افراد کو قیدی بنا کر غزہ لے جایا گیا تھا۔ ان میں سے 79 اب بھی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے کم از کم 34 کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ہلاک ہو گئے ہیں۔
قیدیوں میں بیبس کی بیوی اور دو بچے بھی شامل تھے جنہیں حماس نے مردہ قرار دیا ہے تاہم اسرائیلی حکام نے اس کی ابھی تصدیق نہیں کی۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے تحت قیدیوں کے چوتھے تبادلے کے بعد مصری سرحد سے جڑی رفح راہداری آج ہفتے کے روز سے کھول دی جائے گی۔ یہ راہداری اسرائیلی فوج نے سات مئی 2024 کو رفح پر زمینی حملے کے بعد بند کر دی تھی۔
راہداری کھلنے کے بعد زخمی فلسطینیوں کو علاج کے لیے غزہ سے لایا جا سکے گا۔ جیسا کہ جنگ بندی معاہدے میں پہلے طے کیا جا چکا ہے۔ یاد رہے رفح راہداری غزہ کے لیے خوراک اور دوسرے امدادی سامان کی رسائی کے لیے سب سے اہم راستہ ہے۔