روس میں فوجی جوانوں کی بیواؤں کو ماں بننے پر آمادہ کرنے کی مہم

روس میں فوجی جوانوں کی بیواؤں کو ماں بننے پر آمادہ کرنے کی مہم
کیپشن: روس میں فوجی جوانوں کی بیواؤں کو ماں بننے پر آمادہ کرنے کی مہم

ویب ڈیسک: یوکرین کے خلاف جاری جنگ کے دوران روس میں ایک منفرد سماجی و نفسیاتی مہم چلائی جا رہی ہے، جس کے تحت ان خواتین کو ریاستی اور فلاحی اداروں کی جانب سے ماں بننے پر آمادہ کیا جا رہا ہے جن کے شوہر یا تو محاذ پر مصروف ہیں یا جنگ میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔

روسی میڈیا کے مطابق "ٹو بی آ مام" (To Be a Mom) جیسی تنظیمیں ان خواتین کو نہ صرف اخلاقی بلکہ مالی اور نفسیاتی مدد فراہم کر رہی ہیں تاکہ وہ حمل ضائع نہ کریں اور بچے کو جنم دیں، چاہے ان کے بچے کبھی اپنے والد سے نہ مل سکیں۔

ان تنظیموں کو حکومتی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف رواں سال صدارتی فنڈ سے "ٹو بی آ مام" کو 38 ہزار ڈالر دیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 1.95 لاکھ ڈالر ایسے منصوبوں پر خرچ کیے جا چکے ہیں جو جنگ زدہ بیواؤں کی مدد کے لیے مختص ہیں۔

"زا لیوبوف" نامی ایک اور پروگرام کے تحت خواتین کو حمل کے دوران نفسیاتی معاونت، زچگی کے بعد تصویری سیشنز، اور اسپتال سے رخصتی پر تقریبات جیسی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

ان منصوبوں کے تحت حالیہ دو ماہ میں آٹھ بچوں کی پیدائش ہو چکی ہے، جن میں سے تین کے والد جنگ میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بعض خواتین، جیسا کہ اولگا اور اوکسانا، اپنے شوہروں کی تدفین یا گمشدگی کے دوران ہی ماں بنی ہیں۔

روس کے شہر نویابرزک میں چرچ اور خواتین کی صحت کے ایک مرکز نے ایک اور منصوبہ "ماں بننے کا آغاز ہی سے" شروع کیا ہے، جس میں خواتین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ہونے والے بچے کی طرف سے جنگ زدہ یا مرحوم شوہر کے نام ایک خط لکھیں تاکہ جذباتی ربط قائم کیا جا سکے۔

نفسیات دان نادیژدا فی سینکو کہتی ہیں کہ "خوف ایک فطری ردعمل ہے، لیکن نئی زندگی کی تخلیق عورت کو ازسرنو جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔" ان کے مطابق ماں بننے کا عمل عورت کی فطرت کا حصہ ہے، اور اس سے انکار کو وہ "زندگی کے انکار" سے تعبیر کرتی ہیں۔

Watch Live Public News