ویب ڈیسک: کنگ چارلس نے اپنے چھوٹے بھائی، اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو تمام شاہی اعزازات سے محروم کر دیا ہے، جس کے بعد وہ اب ایک عام شہری بن گئے ہیں۔
غیر ملکی ذرائع کے مطابق، اینڈریو اب نہ تو آرڈر آف دی گارٹر کے رکن ہیں اور نہ ہی نائٹ آف دی گرانڈ کراس آف دی رائل وکٹوریہ آرڈر کے حامل، یہ دونوں اعزازات شاہی خاندان یا قومی خدمات میں نمایاں کردار ادا کرنے والوں کو دیے جاتے ہیں۔ کنگ چارلس کے فیصلے کے بعد اینڈریو کا نام ان اعزازات کے سرکاری رجسٹر سے بھی نکال دیا گیا۔
یہ فیصلہ کنگ چارلس اور شہزادہ ولیم کی مشاورت سے لیا گیا اور اینڈریو نے اس پر رضامندی ظاہر کی۔ کچھ رپورٹس کے مطابق رائل نیوی بھی جلد ہی اینڈریو سے وائس ایڈمرل کا عہدہ واپس لے سکتی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ اینڈریو کا شاہی خاندان میں کوئی عملی کردار باقی نہیں رہا، اور اب ان کے عوامی تقریبات میں نظر آنے کے امکانات بھی کم ہیں۔
کنگ چارلس نے اینڈریو کو ان کے 20 سالہ قیام کے بعد شاہی محل سے بھی نکال دیا ہے، اور اب وہ نہ "ڈیوک آف یارک" کہلائیں گے، نہ "پرنس" اور نہ ہی کسی شاہی فہرست کا حصہ ہوں گے۔ تاہم، وہ تخت کے لیے آٹھویں نمبر پر موجود رہیں گے۔
اینڈریو کی ساکھ 2019 میں اس وقت متاثر ہوئی تھی جب ان پر جیفری ایپسٹین کے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں ملوث ہونے کے الزامات لگے تھے۔ ایک خاتون، ورجینیا جیفری نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے کم عمری میں اینڈریو تک پہنچایا گیا تھا، جسے شہزادے نے ہمیشہ مسترد کیا۔ ایک بی بی سی انٹرویو میں اینڈریو نے یہ اعتراف کیا تھا کہ وہ ایپسٹین سے 1999 میں ملے تھے، مگر ان پر غیر مناسب رویے کا الزام غلط تھا۔ تاہم عدالت میں گواہی دی گئی تھی کہ 1990 کی دہائی میں اینڈریو ایپسٹین کے طیارے میں 14 سالہ لڑکی کے ساتھ سفر کر چکے ہیں۔
اس سے پہلے بھی کچھ شاہی شخصیات سے اعزازات واپس لیے جا چکے ہیں، جیسے کنگ ایڈورڈ ہشتم، جنہوں نے ایک امریکی خاتون سے شادی کرنے کے لیے بادشاہت چھوڑ دی تھی، اور پرنس فلپ نے شادی سے پہلے اپنے یونانی اور ڈینش خطابات ترک کیے تھے۔