"کوئی مذاکرات نہیں ہونگے، دہشتگردوں کو ریاست کی طاقت کیساتھ جواب دیا جائے گا"

(ویب ڈیسک ) وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں سےکوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، انہیں ریاست کی طاقت کے ساتھ جواب دیا جائےگا۔

خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ  دہشت گردوں کی بلوچستان کےکسی علاقے میں کوئی رٹ نہیں، دہشت گردی کا جواب ریاست پوری قوت کے ساتھ دےگی۔ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کی خرابی کے بہت سے عوامل ہیں، جرائم پیشہ عناصر اور  اسمگلرز کے خلاف گھیرا تنگ کیا تو انہوں نے علم بغاوت بلند کردیا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ  کہا جاتا رہا بلوچستان میں مذاکرات کیے جائیں، ماضی میں بلوچ سیاسی جماعتوں سے مذاکرات ہوتے رہے ہیں، جن 177 جرائم پیشہ افراد کو جہنم واصل کیا گیا ان کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں تھی،ان جرائم پیشہ عناصر کی آڑ میں بلوچستان میں سیاسی عناصر نے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کل پاکستان کا 40 فیصد ہے، اتنے بڑے علاقے کو کور کرنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز چاہئیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ کوئی بتائے ان دہشت گردوں کو کون اسلحہ دے رہا ہے؟ ان دہشت گردوں کے پاس امریکی اسلحہ ہے، دہشت گردوں کے پاس رائفل ہی 20 لاکھ روپے کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  دہشت گردوں کے پیچھے بھارت ہے، بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ پراکسیز موجود ہیں،کلبھوشن بھی بلوچستان سے پکڑا گیا، ان دہشت گردوں کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور  وہاں سےان کو مدد ملتی ہے۔

 خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گرد حملوں کی وجہ تیل کی اسمگلنگ رکنا ہے، یہ کاروباری نقصانات کو ریکور کرنےکے لیے تحریک چلائی جا رہی ہے، اس کرپشن نیٹ ورک کے ذریعے ایران سے 40 روپے لیٹر تیل لےکرکراچی میں 200 روپے فی لیٹرپر بیچ رہے ہیں، یہ لوگ صرف ایرانی اسمگل تیل سے روزانہ 4 ارب روپے منافع کما رہے ہیں، اس تیل کو روکا گیا اس کی وجہ سے یہ لوگ امن امان برباد کر رہےہیں۔ بی ایل اے والے چور ہیں جو اسمگلرز کی حفاظت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  فساد میں ملوث لوگوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جاسکتے، ہمیں اپنے اختلاف بھلا کر پاک فوج کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے، اس مسئلے پر ہم سب کو ایک ہونا ہوگا، دہشت گردی کے خلاف لڑنا پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں تین دہائیوں سے امن میں رکاوٹ آتی رہی، پاکستان کی آزادی کے وقت وہاں صرف چند سو کلومیٹر سڑکیں تھیں، اب بلوچستان میں 26 ہزار کلومیٹر سڑکیں ہیں،   بلوچستان میں آج 15 ہزار 96 اسکول اور 13 کیڈٹ کالجز ہیں، آج بلوچستان میں 13 بڑے اسپتال ہیں، بلوچستان کا  این ایف سی شیئر 933 ارب روپے ہے۔

Watch Live Public News