ویب ڈیسک: ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ جوہری تعاون معطل کرنے کے قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ایران کا IAEA کے ساتھ جوہری معاہدہ عملی طور پر معطل ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے گزشتہ ہفتے منظور کیے گئے قانون کے تحت کیا گیا ہے، جس میں IAEA کے ساتھ مزید تعاون بند کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
IAEA کو ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی سے روک دیا گیا
ذرائع کے مطابق IAEA نے حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات—نطنز، فردو اور اصفحان—کا معائنہ کرنے کی باضابطہ درخواست دی تھی، مگر ایرانی حکام نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
ان مقامات کو حالیہ حملوں میں شدید نقصان پہنچا تھا، جس کے بعد عالمی ایٹمی ادارہ ان کی سلامتی اور ممکنہ مواد کے اخراج کے حوالے سے تحقیقات کرنا چاہتا تھا، تاہم ایران نے اس مطالبے کو داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
صدر پزیشکیان کا واضح پیغام
صدر مسعود پزیشکیان نے اس اقدام کو ایران کی خودمختاری کے تحفظ کا اہم فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا " ایران ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا، لیکن جب ہماری سالمیت پر حملے ہوں اور ہماری تنصیبات نشانہ بنیں تو ہم اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔"
عالمی سطح پر ردِ عمل کی توقع
ماہرین کے مطابق ایران کا یہ فیصلہ عالمی سطح پر تنقید اور ممکنہ پابندیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور یورپی یونین کی جانب سے سخت بیانات متوقع ہیں، جب کہ IAEA کے آئندہ اقدامات پر بھی نظریں مرکوز ہیں۔