ویب ڈیسک: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ’’آپریشن سندور‘‘ کے تحت ہندو خواتین کو سندور بھیجنے کی مہم نے نہ صرف سیاسی ہنگامہ کھڑا کر دیا بلکہ خواتین کے مذہبی جذبات کو بھی مجروح کیا۔ عوامی ردعمل نے اس "سیاسی ڈرامے" کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پہلگام حملے کے بعد عوامی غصے سے بچنے کے لیے مودی نے "آپریشن سندور" کا ڈرامہ رچایا، مودی سرکار نے متاثرین کے اہلخانہ سے تعزیت کرنے کے بجائے گھر گھر سندور بھیجنے کا سیاسی کھیل شروع کردیا۔
مودی کا بھیجا ہوا سندور بھارتی عورتوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "سندور بکتا نہیں اور نہ ہی بانٹا جاتا ہے"۔
عوام نے سوال کیا کہ آپریشن سندور کے بعد ہر طرف مودی کی مسکراتے تصویر ہے، فوج کی تصویر کیوں نہیں، کیا مودی مرنے والوں پر مسکرارہا ہے؟ ۔
بھارتی خاتون کا کہناہے کہ جن کے گھر تم سندور بھیجو گے وہ چپل سے منہ لال کردیں گی، مودی کو ان 28 بیواؤں کے گھر جاکر انکے سر پر ہاتھ رکھنا چاہیے تھا، لیکن یہ تو انہی کو سندور بھیجنے لگے،کرنل صوفیہ جن کے پورے خاندان پر مودی کو پھول برسانے چاہیے، انہیں زبردستی بلایا جارہا ہے کہ مودی کے روڈ شو پر پھول برساؤ، مودی سرکار نے ہلاکتوں پر ہمدردی کے بجائے سیاسی سرکس لگایا۔
بھارتی خاتون نے دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سندور کسی مرد کی ملکیت کا نشان ہے، مذاق نہیں"، مودی نے ہمارے رشتوں، رسموں، اور دھرم کا مذاق بنا دیا ہے"، مودی کو شرم آنی چاہیے، وہ بیواؤں کو سندور دینے کی بات کر رہا ہے۔ مودی نے ثابت کردیا کہ اسے نہ مذہب کی سمجھ ہے، نہ رواج کی، نہ ہی انسانی احساسات کی۔