ایران کے اسرائیل پرحملوں کی تازہ لہر،تل ابیب،یروشلم دھماکوں سے گونج اٹھے

ایران کے اسرائیل پرحملوں کی تازہ لہر،تل ابیب،یروشلم دھماکوں سے گونج اٹھے
کیپشن: ایران کے اسرائیل پرحملوں کی تازہ لہر،تل ابیب،یروشلم دھماکوں سے گونج اٹھے

ویب ڈیسک: ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے اور تازہ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے گئے، جن میں مغربی یروشلم سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کم از کم 7 افراد زخمی ہوئے جبکہ متعدد گاڑیوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ مقبوضہ بیت المقدس میں ایک مقام پر میزائل گرنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

رپورٹس کے مطابق تل ابیب، یروشلم اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو حفاظتی بنکروں میں منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب اردن نے ان حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ اردن کی حکومت نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں 560 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ایرانی فوج نے امریکی طیارہ بردار جہاز "ابراہام لنکن" کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ مزید برآں پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں تین امریکی اور برطانوی آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

خبر ایجنسیوں کے مطابق بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر بھی حملے کیے جانے کی اطلاعات ہیں، لیکن اس حوالے سے کوئی مستند تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ادھر اسرائیل نے بھی ایران کے خلاف جوابی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ تہران میں شدید بمباری کی اطلاعات ہیں جہاں زوردار دھماکوں اور اینٹی ایئرکرافٹ گنز کی فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کے بعد شہر کی فضا دھوئیں سے بھر گئی۔

اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں نافذ ایمرجنسی کی مدت میں 12 مارچ تک توسیع کر دی ہے اور سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

تازہ صورتِ حال کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

Watch Live Public News