ویب ڈیسک: سپریم کورٹ نے سینیٹراعجاز چودھری کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ایک لاکھ روپے کے مچلکے ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے رہنما پی ٹی آئی سینیٹر اعجاز چودھری کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔
دوران سماعت اسپیشل پراسیکیوٹر نے بتایا کہ اعجاز چودھری نے 9 مئی کے واقعات میں لوگوں کو اکسایا اور سازش کا بھی حصہ رہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ اعجاز چودھری کیخلاف کیس اتنا ہی مضبوط تھا تو فوجی عدالت میں لے جاتے۔ویسے بھی تو 600ملزمان کا کیس فوجی عدالتوں میں لے کر گئے ہی ہیں۔
اعجاز چودھری کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی سے وابستہ سینیٹر 11 مئی 2023 سے گرفتار ہیں۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ ضمانت کو بطور سزا استعمال نہیں کیا جا سکتا،عدالت نے سینیٹراعجاز چودھری کو ایک لاکھ روپے مالیت کے مچلکے ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کرلی۔