ویب ڈیسک: غزہ تک امدادی سامان لیجانے کی کوشش میں رواں گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل سینکڑوں انسانی حقوق کے کارکنوں کو اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی سمندری حدود سے گرفتار کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتارافراد میں جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔
معروف برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق فلوٹیلا میں شامل ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو بدھ کے روز اسرائیلی افواج نے اس وقت حراست میں لے لیا، جب فوج نے غزہ امدادی فلوٹیلا کی متعدد کشتیوں پر سوار غیر ملکی کارکنوں کو گرفتار کر کے انہیں اسرائیلی بندرگاہ کی طرف موڑ دیا۔
یہ اقدام گلوبل صمود فلوٹیلا کی صورت میں اس احتجاج میں رخنہ ڈالنے کے مترادف تھا جو غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف دنیا بھر میں سب سے نمایاں علامت بن چکا تھا۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گریٹا تھنبرگ جہاز کے عرشے پر بیٹھی ہیں اور ان کے گرد فوجی کھڑے ہیں۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں فلوٹیلا کو ’حماس-صمود فلوٹیلا‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فلوٹیلا میں شامل کئی کشتیوں کو بحفاظت روک دیا گیا ہےاور ان کے مسافروں کو اسرائیلی بندرگاہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ گریٹا اور ان کے ساتھی محفوظ اور صحت مند ہیں۔‘
معروف صحافی حامد میر نے جمعرات کی صبح ایکس پر اپنی پوسٹ میں گلوبل صمود فلوٹیلا سے اغوا کیے جانے والے مشتاق احمد خان اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پاکستان فلسطین فورم نے نیشنل پریس کلب پر آج بروز جمعرات سہ پہر 3 بجے احتجاجی مظاہرے کی کال دی ہے۔
اسرائیلی فوج نے مشتاق احمد خان سمیت گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل سینکڑوں رضاکاروں کو گرفتار کر لیا ہے اسرائیل عالمی امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے دنیا کے مختلف ممالک میں ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا ہے پاکستان میں بھی ان گرفتاریوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھانے کی ضرورت ہے pic.twitter.com/tn2Rv82tIy
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) October 2, 2025
ایکس پر فورم کی پوسٹ کے مطابق مظاہرے میں سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی اسرائیلی قابض فوج کے ہاتھوں گرفتاری اور ان کے ساتھ 44 ممالک کے دیگر رضاکاروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔
’مظاہرے کا مقصد عالمی انسانی امدادی مشن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔‘