ترکیہ کی سوشل سروسز اور فیملی امور کی وزارت نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ حکام نے ساڑھے تین ماہ کی بچی کو اس کی ماں کے حوالے کر دیا ہے ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹوئٹ میں لکھا گیا ہے کہ ماں بیٹی کا’ڈی این اے‘ دیکھا گیا ہے ، دونوں کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے جس سے دونوں کو ملوا دیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے ترک حکام کا کہنا ہے کہ جب ریسکیو اہلکاروں کو بچی ملی تھی تب ان کے پاس اس بچی کا کوئی ڈیٹا نہیں تھا اور نا ہی اس کا نام معلوم تھا ، بچی کو زلزلہ آنے کے 128 گھنٹے بعد ملبے کے نیچے سے نکالا گیا تھا تھا ۔ ریسکیو کے بعد بچی کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں علاج کے بعد اسے انقرہ میں گم شدہ افراد کیلئے قائم ایک پناہ گاہ میں لایا گیا تھا ، نرسوں نے بچی کا نام 'گیزم‘ رکھا لیکن اس کا اصل نام ’فیتن‘ تھا ۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے ساتھ ملبے تلے ملنے والی گڑیا بھی رکھی تھی اور یہی گڑیا اس بچی کے خاندان کے ساتھ تعارف کا ذریعہ بھی ثابت ہوئی ہے تاہم بدقستمی سے بچی کے والد اور 2 بھائی اس قدرتی آفت کے نتیجے میں جان کی بازی ہار گئے ہیں ۔Deprem felaketinde 128 saat enkaz altında kalan 3.5 aylık mucize bebek, annesine kavuştu. Aileden ve bebekten alınan DNA örneğinde uyuşma sağlanmasının ardından kavuşma gerçekleşti.
— Yeni Şafak (@yenisafak) April 2, 2023