آسام میں انتخابی حد بندیوں کے ذریعے مسلم سیاسی اثر و رسوخ ختم کرنے کی بڑی سازش بے نقاب

آسام میں انتخابی حد بندیوں کے ذریعے مسلم سیاسی اثر و رسوخ ختم کرنے کی بڑی سازش بے نقاب
کیپشن: آسام میں انتخابی حد بندیوں کے ذریعے مسلم سیاسی اثر و رسوخ ختم کرنے کی بڑی سازش بے نقاب

ویب ڈیسک: بھارتی ریاست آسام میں انتخابی حد بندیوں کے ذریعے مسلم سیاسی اثر و رسوخ ختم کرنے کی بڑی سازش بے نقاب ہوگئی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کی جانب سے آسام کی نئی حلقہ بندیوں کو متعصبانہ 'جیری مینڈرنگ' اور دھاندلی قرار دے دیا گیا ہے۔ آسام میں جاری حالیہ بدامنی کی سب سے بڑی وجہ اقلیتوں کو سیاسی حقوق سے محروم کرنا ہے۔ مسلم اکثریتی علاقوں کو توڑ کر ہندو اکثریتی حلقوں میں ضم کر کے ووٹ کی طاقت کو کچل دیا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نئی حد بندیوں کے نتیجے میں مسلم اثر و رسوخ والی نشستوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی۔"کریکنگ اور پیکنگ" جیسے ہتھکنڈوں کے ذریعے بنگالی مسلمانوں کی سیاسی آواز دبانے کی کوشش کی گئی۔ کٹی گورا اور دیگر اہم حلقوں میں مسلم نمائندگی کو دانستہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا مسلم علاقوں میں بھی ہندو امیدوار لانے کا فیصلہ دراصل اقلیتوں کو سیاسی میدان سے باہر کرنا ہے۔

 الجزیرہ کے مطابق آسام میں مذہبی بنیادوں پر سیاسی تقسیم نے جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ نئی حد بندیوں سے مسلم ارکانِ اسمبلی کے منتخب ہونے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں ہیں۔ آسام کے مسلمان خود کو سیاسی طور پر مکمل طور پر بے بس اور لاوارث محسوس کرنے لگے ہیں۔ انتخابات سے قبل کی گئی یہ تبدیلیاں مخصوص مذہبی اور سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کا حصہ ہیں۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ آسام میں مسلمانوں کو کچھ نہیں ملتا، جبکہ بی جے پی کے ووٹ کے لیے مقامی لوگوں پر ترقیاتی منصوبوں کی بارش کی جا رہی ہے۔

Watch Live Public News