ویب ڈیسک: مصنوعی ذہانت ( اے آئی) کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے عالمی لیبر مارکیٹ میں تبدیلی آ رہی ہے، جس سے نوجوانوں میں مستقبل کے حوالے سے بے چینی بڑھ گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، برطانیہ کے نوجوان اب روایتی سفید پوش ملازمتوں کے بجائے ہنر مندی پر مبنی پیشوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں تاکہ اے آئی کی وجہ سے نوکری کے خاتمے کے خطرات سے بچا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دفتری اور تکنیکی شعبوں میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نوجوانوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ برطانیہ میں حالیہ سروے کے مطابق، ہر 6 میں سے ایک ادارہ آئندہ سال اے آئی کے سبب عملے کی کمی کا ارادہ رکھتا ہے۔
18 سالہ ماریانا یاروشینکو بھی ان نوجوانوں میں شامل ہیں جو اے آئی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہنر سیکھ رہی ہیں۔ یوکرین سے تعلق رکھنے والی یہ طالبہ لندن کے سٹی آف ویسٹ منسٹر کالج میں پلمبنگ کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پلمبنگ ایک ایسا پیشہ ہے جسے اے آئی کبھی نہیں لے سکتی، کیونکہ کوئی روبوٹ یہ کام نہیں کر سکتا۔
کالج کی انتظامیہ کے مطابق، گزشتہ تین برسوں میں انجینئرنگ اور تعمیرات کے کورسز میں 9.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کالج کے سی ای او اسٹیفن ڈیوس کے مطابق، اس رجحان کے پیچھے دو اہم وجوہات ہیں: اے آئی سے متعلق خوف اور یونیورسٹی کی مہنگی فیسوں سے بچنے کی خواہش۔ اس لیے نوجوان عملی تربیت کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ وہ جلد روزگار حاصل کر سکیں۔
کنگز کالج لندن کی تحقیق کے مطابق، اے آئی سے سب سے زیادہ متاثر جونیئر عہدے ہیں، جس سے نوجوانوں کے لیے کیریئر کے آغاز میں مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
برطانیہ کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین کے سروے میں بھی 25 سے 35 سال کے افراد نے سب سے زیادہ خدشات کا اظہار کیا کہ اے آئی مستقبل میں ان کی ملازمتوں کو ختم کر سکتا ہے۔
یہ رجحان واضح کرتا ہے کہ مستقبل میں ہنر مندی کی اہمیت بڑھنے والی ہے، اور نوجوان اے آئی کے دور میں محفوظ اور عملی روزگار کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔