ترکیہ میں باسمتی کا جی آئی ٹیگ پاکستان کے نام، بھارت کو سفارتی محاذ پر دھچکا

ترکیہ میں باسمتی کا جی آئی ٹیگ پاکستان کے نام، بھارت کو سفارتی محاذ پر دھچکا
کیپشن: ترکیہ میں باسمتی کا جی آئی ٹیگ پاکستان کے نام، بھارت کو سفارتی محاذ پر دھچکا

ویب ڈیسک: پاکستانی ورثے پر اجارہ داری قائم کرنے کی بھارت کی توسیع پسندانہ مہم کو ایک فیصلہ کن دھچکا دیتے ہوئے پاکستان نے مئی 2026 میں ترکیہ میں باسمتی چاول کے لیے جغرافیائی اشاریہ (GI) کا درجہ کامیابی سے حاصل کیا۔

یہ کامیابی بھارت کی اپریل 2023 میں ترک پیٹنٹ دفتر میں اس کوشش کے بعد سامنے آئی جس میں اس نے ایک ایسے زرعی محصول پر مکمل دعویٰ کرنے کی کوشش کی جو   پاکستان کے جغرافیائی خطے سے تعلق رکھتا ہے۔ پاکستان کے بروقت ردعمل، جس میں TDAP کے ذریعے قانونی ماہرین کو شامل کرنا، برآمد کنندگان کو متحرک کرنا، اور 18,000 ٹن TRQ سے فائدہ اٹھانا شامل تھا، جس کے نتیجے میں واضح نتائج سامنے آئے جن میں ترکیہ کی بڑی کمپنی M/S A-101 کے ابتدائی آرڈرز اور انقرہ میں پروموشنل سرگرمیاں شامل ہیں۔

بھارت کے پاکستان مخالف یہ ہتھکنڈے اس کے دیگر ممالک میںباسمتی جی آئی کا حصول کے لیے استعمال ہونے والے دباؤ والے طرزِ عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ یورپی یونین میں بھارت نے 2018 میں PGI کا مکمل حق حاصل کرنے کی درخواست دی، اور پاکستان نے کیس جیت لیا ۔
اسی طرح کی جھوٹی دعوے بازی ہمالیائی پنک سالٹ کے معاملے میں بھی دیکھی جاتی ہے، جہاں بھارت پاکستان سے تعلق رکھنے والی مصنوعات کو اپنی قرار دے کر ان کی معاشی اور ثقافتی قدر چراتا ہے۔ یہ اقدامات بھارت کے معاشی جارحیت اور تاریخی تحریف کے رجحان کو ظاہر کرتے ہیں، جس کا مقصد پاکستان کے کردار کو مٹانا اور عالمی منڈیوں پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔
ترکیہ میں پاکستان کی یہ کامیابی صرف ایک تجارتی فتح نہیں بلکہ بھارت کے بالادستی کے عزائم کے لیے ایک اسٹریٹجک شکست ہے۔  یہ اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ اسلام آباد عالمی سطح پر ایسے جھوٹے دعووں کا بھرپور مقابلہ کرے اور تجارتی کوٹوں سے مکمل فائدہ اٹھائے۔
بھارت بین الاقوامی سطح پر پاکستانی مصنوعات کو جھوٹے طور پر بھارتی قرار دے کر ان کی غلط برانڈنگ کرتا ہے۔

Watch Live Public News