ویب ڈیسک: امریکی ارب پتی اور ٹیکنالوجی ٹائیکون ایلون مسک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ میگا بل پر ایک بار پھر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے " قابلِ نفرت بدصورتی" قرار دیا ہے۔
منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک سخت پیغام جاری کیا، جس میں اس بل کو "فضول خرچی سے بھرپور، شرمناک اور امریکی عوام پر قرض کا بوجھ ڈالنے والا" قرار دیا۔
مسک نے کہا ’معذرت چاہتا ہوں، لیکن میں اب مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ بڑا، بے ہودہ، چربی سے بھرا ہوا کانگریسی بل ایک قابلِ نفرت بدصورتی ہے۔ جنہوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا، اُن پر شرم ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ نے غلط کیا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بل امریکا کے بجٹ خسارے کو 2.5 ٹریلین ڈالر تک لے جائے گا اور قوم کو ناقابلِ برداشت قرض کے نیچے دبا دے گا۔
بل کی تفصیلات
یہ قانون سازی صدر ٹرمپ کے 2017 کے ٹیکس کٹوتیوں کو توسیع دیتی ہے، جبکہ فوجی اخراجات اور بارڈر سکیورٹی کے لیے بجٹ میں اضافہ بھی شامل ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی میڈیکیڈ، فوڈ اسٹیمپ پروگرام (SNAP)، اور دیگر فلاحی منصوبوں میں کٹوتیاں تجویز کی گئی ہیں۔
کانگریشنل بجٹ آفس (CBO) کے مطابق، یہ بل اگلے دس سالوں میں امریکی قومی قرض میں تقریباً 3.8 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کرے گا، جو پہلے ہی 36.2 ٹریلین ڈالر کی سطح پر ہے۔
دوسری جانب جب وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ میں ایلون مسک کے ریمارکس پر سوال کیا گیا تو پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا’ "صدر پہلے ہی جانتے ہیں کہ ایلون مسک اس بل پر کیا رائے رکھتے ہیں۔ اس سے صدر کی رائے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ یہ ایک بڑا، خوبصورت بل ہے، اور وہ اس پر قائم ہیں۔"
ایلون مسک کی جانب سے اس قانون سازی پر تنقید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انہوں نے حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ کے مشاورتی کردار سے استعفیٰ دیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حکومتی فضول خرچی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔