ویب ڈیسک: بھارت کے مشہور گلوکار سونو نگم حالیہ کنسرٹ کے دوران دیے گئے ایک متنازع بیان کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، جس نے کنڑا زبان بولنے والی کمیونٹی کو خاص طور پر برہم کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ 25 اپریل کو بنگلورو کے علاقے ورگونگر میں واقع ایسٹ پوائنٹ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ایک موسیقی پروگرام کے دوران پیش آیا، جب ایک مداح نے سونو نگم سے کنڑا زبان میں گانا گانے کی فرمائش کی۔
گلوکار نے اس درخواست پر ناراضی کا اظہار کیا اور مبینہ طور پر ایسا تبصرہ کیا جسے کئی افراد نے نہایت غیر حساس اور اشتعال انگیز قرار دیا۔
سونو نگم نے مداح کی فرمائش کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ”یہی وجہ ہے جو پہلگام میں ہوا، اور تم لوگ جو کر رہے ہو، وہی مسئلہ ہے۔“
ان الفاظ نے نہ صرف سامعین کو حیرت میں ڈال دیا بلکہ سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا۔ لوگوں نے سونو نگم پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک سادہ درخواست کو دہشتگردی کے واقعے سے جوڑ کر کنڑا بولنے والے افراد کو بدنام کر رہے ہیں۔
کنڑا تنظیم ’کرناٹک رکشنا ویدیکے (KRV)‘ نے گلوکار کے خلاف پولیس میں باقاعدہ شکایت درج کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ بیان لسانی نفرت کو ہوا دینے والا ہے اور اس سے بین الصوبائی ہم آہنگی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
شکایت میں کہا گیا کہ سونو نگم نے جان بوجھ کر ایسا بیان دیا جس سے یہ تاثر ملا کہ کنڑا بولنے والے متشدد یا انتہاپسند ہو سکتے ہیں، حالانکہ مداح صرف اپنی زبان میں ایک گانے کی خواہش ظاہر کر رہا تھا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل میں کئی صارفین نے سونو نگم کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ایک صارف نے لکھا، ”کنڑا گانے کی درخواست کو پہلگام حملے سے جوڑنا نہایت افسوسناک ہے۔“
جبکہ کچھ افراد نے سونو نگم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایک فنکار کو اپنی پسند کے مطابق پرفارم کرنے کا اختیار حاصل ہونا چاہیے۔
فی الوقت بنگلورو پولیس نے شکایت موصول ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ سونو نگم کی جانب سے بھی اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔