ویب ڈیسک: خطے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو ایک بڑا جھٹکا لگا ہے، کیونکہ تاجکستان نے آئنی ایئربیس (Ayni Air Base) کا مکمل کنٹرول بھارت سے واپس لے لیا ہے۔ اس اقدام کے بعد بھارت کو اپنی واحد غیر ملکی فوجی تنصیب سے دو دہائیوں بعد بے دخل کر دیا گیا ہے۔
عالمی دفاعی جریدوں کے مطابق، یہ فیصلہ روسی اور چینی دباؤ کے نتیجے میں سامنے آیا، جس نے وسطی ایشیا میں بھارت کی اسٹریٹجک پوزیشن کو کمزور کر دیا ہے۔ آئنی ایئربیس بھارت کے لیے پاکستان اور افغانستان پر فضائی نگرانی کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماسکو اور بیجنگ نے تاجکستان پر دباؤ ڈال کر بھارت کے ساتھ لیز معاہدہ ختم کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ روس کے تقریباً 7 ہزار فوجی پہلے ہی تاجکستان میں تعینات ہیں، جبکہ چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت ملک میں سرمایہ کاری اور فوجی تعاون میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، تاجکستان کا یہ فیصلہ نہ صرف بھارت کے لیے خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے بلکہ یہ پاکستان، چین اور روس کے بڑھتے علاقائی اثرورسوخ کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
بھارت نے 2002 میں آئنی ایئربیس پر 70 سے 100 ملین ڈالر کی لاگت سے سرمایہ کاری کی تھی، جہاں بھارتی فضائیہ کے Mi-17 ہیلی کاپٹرز اور Su-30 طیارے تعینات رہے۔ تاہم، اب اس انخلا کے بعد بھارت وسطی ایشیا میں اپنی عسکری موجودگی سے مکمل طور پر محروم ہو گیا ہے۔
نئی دہلی میں اپوزیشن جماعتوں نے اس پیشرفت کو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا ہے، جبکہ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ بھارت کے لیے ایک “اسٹریٹجک ویک اپ کال” ہے، جو خطے میں اس کے محدود ہوتے اثرات کو نمایاں کرتا ہے۔