ویب ڈیسک: بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک حیران کن واقعہ اس وقت سامنے آیا جب دو سال قبل قتل کے مقدمے میں نامزد خاتون اچانک زندہ برآمد ہوگئی۔ یہ واقعہ ضلع اورئیہ میں پیش آیا جہاں پولیس نے عدالت کے حکم پر خاتون کے شوہر سمیت سات افراد کے خلاف قتل برائے جہیز اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون اپنی شادی کے ڈیڑھ سال بعد پراسرار طور پر لاپتا ہوگئی تھیں۔ ابتدا میں ان کے اہل خانہ نے گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی، لیکن بعد میں اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ خاتون کو جہیز کے تنازع پر قتل کردیا گیا ہے۔ عدالت کے حکم پر پولیس نے سسرالیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے باقاعدہ قتل کا مقدمہ قائم کر دیا۔
تاہم معاملے نے نیا رخ اس وقت اختیار کیا جب پولیس کی اسپیشل آپریشنز گروپ اور سرویلنس ٹیم نے طویل تحقیقات کے بعد خاتون کو زندہ تلاش کرلیا۔ اورئیہ کے سرکل آفیسر اشوک کمار سنگھ کے مطابق خاتون کی بازیابی کے بعد معاملے کی اصل حقیقت جاننے کے لیے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ گزشتہ دو سال کہاں اور کس حالت میں رہی، اور کیا واقعی ان پر سسرالیوں کی جانب سے کوئی دباؤ یا ظلم ڈھایا گیا تھا۔
یہ انکشاف اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ خاتون کی گمشدگی کے بعد ان کے سسرالیوں کو معاشرتی اور قانونی طور پر شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ قتل کے مقدمے نے خاندان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا۔ اب جب کہ خاتون زندہ مل گئی ہیں، پولیس اور عدالت دونوں ہی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ مقدمے کے قانونی پہلوؤں کو کس طرح نمٹایا جائے۔