ویب ڈیسک: لاہور پولیس نے ساؤتھ کینٹ میں بینک ڈکیتی کی واردات کے مرکزی ملزم کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا، ملزم سے لوٹی گئی رقم، اسلحہ اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی برآمد کرلی گئی۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سبحان علی برطانوی شہری ہے اور سکاٹ لینڈ میں 6 سال تک ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کر چکا ہے۔ ملزم 16 ستمبر کو برطانیہ سے پاکستان پہنچا تھا، جبکہ اس سے قبل اپریل میں بھی پاکستان آیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے برطانیہ سے لائی گئی 1200 پاؤنڈز کی رقم خرچ ہونے کے بعد مزید رقم کے حصول کے لیے ڈکیتی کا منصوبہ بنایا۔ ملزم نے غازی روڈ پر واقع بینک کو پہلے ہی ممکنہ ہدف کے طور پر منتخب کر رکھا تھا۔
ملزم صبح 9 بج کر 19 منٹ پر بینک میں داخل ہوا اور تقریباً 9 منٹ تک اندر موجود رہا۔ واردات کے دوران ملزم بینک کاؤنٹر سے 7 لاکھ 26 ہزار روپے نقدی اور سکیورٹی گارڈز کے دو ہتھیار لے کر فرار ہوگیا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا اور اس کے قبضے سے 4 لاکھ 26 ہزار روپے نقدی، 2 پستول اور ایک 12 بور رائفل برآمد کرلی۔ واردات میں استعمال ہونے والی سفید ہونڈا سِوک آر ایس ٹربو بھی پولیس نے قبضے میں لے لی، جس کا رجسٹریشن نمبر ملزم نے سیاہ پینٹ سے چھپا رکھا تھا۔
تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے اپریل میں سیالکوٹ سے 45 ہزار روپے میں پستول خریدا جبکہ ٹھوکر سے 20 ہزار روپے میں گولیاں حاصل کیں۔ پولیس ناجائز اسلحہ کی خرید و فروخت اور ملزم تک اسلحہ پہنچانے کے ذرائع کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے اسلام آباد جانے کے لیے 3 لاکھ روپے ادا کرکے گاڑی رینٹ پر حاصل کی تھی۔ اسلحہ، گاڑی، نقدی اور دیگر شواہد کو تفتیشی ریکارڈ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا کہ لاہور جرائم پیشہ عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں، قانون شکن عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت الرٹ ہے، جبکہ سیف سٹی اتھارٹی کا جدید نظام پولیس کی کارروائیوں میں اہم معاون ثابت ہو رہا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم کی گرفتاری اور اہم برآمدگی میں ایس ایس پی آپریشنز، ایس پی کینٹ اور دیگر افسران کی کاوشیں شامل ہیں۔