(ویب ڈیسک ) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہماری پانی کی تاریخ آپ کے سامنے ہے، کس نے متنازعہ ڈیم کے منصوبے کو روکا ؟،پانی کی منصفانہ تقسیم کے معاملے پر پیپلزپارٹی اکیلی لڑتی آ رہی ہے،سندھو پر نہریں نامنظور،سڑکوں پر جیالوں سے اسمبلیوں میں بیٹھے نمائندوں اور صدر پاکستان تک ہم یہ جدوجہد کرتے آ رہے ہیں۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو خطاب سے پہلے آبدیدہ ہوگئے۔انہوں نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہرسال کی طرح جیالے بڑی تعداد میں آج گڑھی خدا بخش میں موجود ہیں ۔آج ہم سب شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب قائد ذوالفقار علی بھٹو عوام کے علم بردار ہیں ۔ سب کو مبارکباد دیتا ہوں ہم نے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو وہ پہلے پاکستانی ہیں جن کو نشان پاکستان عطا کیا گیا۔ صدر آصف زرداری نے نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف دلایا ۔تاریخ کی عدالت نےپہلے ہی شہید ذوالفقار علی بھٹو کو بے گناہ قرار دے دیا تھا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ تاریخ میں بھٹو شہید کا نام سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا، ذوالفقار بھٹو نے پارٹی کی قیادت بےنظیر کے ہاتھ دینے کا درست فیصلہ کیا، صدر زرداری نے بھی پیپلزپارٹی کی قیادت کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی، ہم آج فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ کل بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے، اس جدوجہد میں قائد عوام کے بعد محترمہ بےنظیر بھٹو کا سب سے بڑا کردار ہے، شہید بےنظیر نے اپنے والد کا مشن جاری رکھا، ان کا نام زندہ رکھا۔
انہوں نے کہا کہ بےنظیربھٹو دو آمروں سے ٹکرائیں، شہید بےنظٰیر نےجمہوریت بحال کی، عوام اور غریبوں کی آواز تھیں، صدر زرداری نے 18 ویں ترمیم کی صورت قائدعوام کا آئین بحال کیا، پاکستان کھپے کا نعرہ دیا، این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو مالی وسائل دیے۔ 18ویں ترمیم کی وجہ سے سندھ صحت کے شعبے میں باقی صوبوں سے آگے ہے،18ویں ترمیم کی وجہ سے ہم سندھ میں مفت علاج کے ہسپتالوں کا جال بچھا سکے، پاکستان کے عوام کو مفت علاج ملتا ہے تو پیپلزپارٹی کی وجہ سے ۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ کو یاد ہے وہ شخص جو 50 لاکھ گھروں کا خواب دکھاتا تھا،پیپلزہاؤسنگ تاریخی منصوبہ ہے، قائدعوام نے لوگوں کو زمین کا مالک بنایا میں 20 لاکھ خاندانوں کو گھر بھی دے رہا ہوں ،زمین کا مالک بھی بنا رہاہوں۔پیپلزہاؤسنگ گھر بنانے کا دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔روٹی کپڑا مکان کا وعدہ پورا کرنا ہم نے قائد عوام اور شہید بےنظٰیر سے سیکھا ہے، ہم نے سیاست کا مطلب خدمت سمجھا ہے نہ کہ نفرت اور تقسیم ۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے بحث کرائی، ہم نے پاکستان کو فیٹف کے شکنجے سے نکلوایا، ہم نے جی ایس پی پلس کے سٹیٹس کو بچایا۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ سیلاب کے دوران میں آپ کا وزیر خارجہ تھا، میں نے دنیا کو قائل کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہمارا نقصان ہو رہا ہے، میں نے دنیا کو بتایا کہ آپ کی وجہ سے میرے لوگ ڈوب رہے ہیں،چین سے امریکا، یورپ سے عرب ممالک تک کوئی ایسا ملک نہیں جو سندھ اور بلوچستان کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے، ہم نے وفاق کو منایا کہ کوئی ایک صوبہ اس قدرتی آفت کا مقابلہ نہیں کر سکے گا،موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں، وزیر خارجہ کی حیثیت سے دنیا کو منوایا کہ ہمارے سندھو کو بچانا ہے، باقی سب سو رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانی کی منصفانہ تقسیم ، موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں، پانی پر بھارت کے ڈاکے اور یکطرفہ فیصلوں کا مقابلہ کرکے آیا ہوں اور کرتا رہوں گا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آج ملک مسائل میں گھرا ہے، دہشت گردی عروج پر ہے، اندرونی اور بیرونی سازشیں ہو رہی ہیں، نفرت اور تقسیم کی سیاست آنے والی نسل کو نقصان پہنچا رہی ہے، کیا ہم نے بھی یہی نفرت اور تقسیم کی سیاست کرنی ہے یا امید اور یکجہتی کی سیاست کرنی ہے،بے نظیر نے ہمیں مثبت سیاست سکھائی ہے ، ہم مثبت سیاست کرتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی ہے، پیپلزپارٹی دہشت گردی اور انتہاپسندی کا مقابلہ کرتے ہوئے سب سے بڑی قربانیاں دی ہیں، بین الاقوامی سازشوں اور اپنی غلطیوں کی وجہ سے دہشت گردی کی دوسری لہر عروج پر ہے، ہماری اندرونی کمزوریوں کو درست کرنا پیپلزپارٹی کے ایجنڈے میں ہے، ہم نے پسماندہ علاقوں کے احساس محرومی کو دور کرنا ہے، جمہوریت، انسانی حقوق کو فعال کر کے نظریاتی جنگ جیت سکتے ہیں، خون کی ہولی کھیلنے والے درندوں کا مقابلہ کرنا ہے، بین الاقوامی سازش اور سہولت کاروں کو کامیاب کرنے کے لیے لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے خطاب میں کہا کہ دہشت گرد کبھی مذہب کے پیچھے چھپتے ہیں، کبھی قوم پرستی کے پیچھے، اصل میں دہشت گرد کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے نہ کوئی قوم، یہ پیشہ ور قاتل اور کھلونے ہوتے ہیں، اپنا مذہب اور قوم کو عالمی طاقتوں کو بیچتے ہیں۔ہم نے پہلے بھی دہشت گردی کو شکست دی آج بھی مل کر اسے ہرائیں گے، یہ پاکستان سے جنگ چھیڑ چکے ہیں،ہم نے بےگناہوں کے قتل کا جواب دینا ہے، ایک دوسرے سے شکوے شکایتیں کرتے رہیں گے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کےساتھ کھڑے ہیں،ہمیں آپس کے سیاسی اختلافات بھولنا ہوں گے۔
ان کاکہنا تھا کہ اس لڑائی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونا عوام اور ہر سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کا ساتھ دیں گے، قیدی نمبر 804 کا جو بھی ایشو ہو وہ سیاست کرتے رہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف اپوزیشن اپنا کردار ادا کرے۔کوئی ایک جماعت ، کوئی ایک صوبہ دہشت گردوں کے پیچھے عالمی قوتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہم سب ایک ہو جائیں تو ان قوتوں کو عبرتناک شکست دیں گے۔
بلاول بھٹو جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور ملک کی ترقی معاشی ترقی سے منسلک ہے، مہنگائی میں کمی کی حکومتی کامیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہیں،جیسے مہنگائی کو قابو کیا ویسے عوام کو روزگار دینے کا مطالبہ پورا کرنا پڑے گا،چاہتے ہیں تھرپارکر ماڈل کی ترقی ہو جس میں عوام حصےدار بنے،حکومت نے طے کیا تھا کہ چاروں صوبوں کی پی ایس ڈی پی مل کر بنائیں گے، یقین دلاتا ہوں مشاورت کے بغیر ہم کسی بجٹ کو ووٹ نہیں دیں گے، حکومت کے ساتھ بیٹھ کر پی ایس ڈی پی اور بجٹ بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کو مضبوط کرنے میں ہمیشہ کردار ادا کیا ہے، صوبوں کو وہ حقوق دیے ہیں جو تاریخ میں کسی نے نہیں دیے،بےنظیر کا بیٹا ہوں، ہمیشہ وفاق کے ساتھ کھڑا رہوں گا اور ہر سازش ناکام بناؤں گا،کوئی مذہب، علیحدگی پرستی کے نام پر ملک توڑنا چاہتا ہے تو ہم پاکستان کھپے سے ان کو جواب دیں گے،معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کی سازش بھی ہم ناکام بنائیں گے، وفاق کو نقصان پہنچانے والی تمام سیاسی و غیر سیاسی قوتوں کو خبردار کرتا ہوں ، بلوچستان کے حالات کا فائدہ اٹھا کر وفاق کو نقصان پہنچانے والوں کا راستہ روکیں گے، خیبرپختونخوا میں خوف اور دہشت گردی پھیلا کر حالات بگاڑنے والوں کو پاکستان کھپے سے جواب دیں گے۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ ہماری پانی کی تاریخ آپ کے سامنے ہے، کس نے متنازعہ ڈیم کے منصوبے کو روکا ؟،پانی کی منصفانہ تقسیم کے معاملے پر پیپلزپارٹی اکیلی لڑتی آ رہی ہے،سندھو پر نہریں نامنظور،سڑکوں پر جیالوں سے اسمبلیوں میں بیٹھے نمائندوں اور صدر پاکستان تک ہم یہ جدوجہد کرتے آ رہے ہیں،نہروں کے معاملے پر حکومت کے فیصلے کو پیپلزپارٹی سپورٹ نہیں کرتی.
انہوں نے کہا کہ کچھ قوتوں کو زرداری فوبیا ہے، ہر چیز کے پیچھے انہیں زرداری نظر آتے ہیں ،اتنا خوف ہے صدر زرداری سے کہ خواب میں بھی وہی نظر آتے ہیں،صدر زرداری کا پاکستان کھپے کا ایک نعرہ ان کے پاکستان نہ کھپے کو ہمیشہ کےلیےدفنا گیا،سیلاب آتا ہے تو یہ بھی صدر زرداری کی سازش، جو وفاق کی نمائندگی کرتا آ رہا ہے وہ کیسے وفاق پر سودا کر سکتا ہے،اس نفرت اور تقسیم کی سیاست کو جواب دینا پڑے گا،یہ لوگ سیاسی یتیم ہیں ۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ چار صوبے چار بھائیوں کی طرح ایک ہوجائیں تو کوئی معاشی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتا، وفاق اور صوبوں کو لڑانے کی سازشیں پیپلزپارٹی ناکام بنائے گی، ہم پاکستان کھپے کا نعرہ لے کر ہر ڈویژن میں جائیں گے، ہم پہلا انقلابی جلسہ حیدرآباد سے شروع کریں گے، وفاق کو بچائیں گے، پاکستان کو بچائیں گے، ہر سازش ناکام بنائیں گے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے 18 اپریل کو حیدرآباد میں جلسے کا اعلان کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ اور پنجاب کے عوام کی آواز سنو،پانی کی منصفانہ تقسیم ہمارا حق ہے، شہبازشریف صاحب یہ عوام کا مطالبہ ہے نئی نہریں نامنظور ہیں، پیپلزپارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہو گی آپ کے ساتھ نہیں، ہم پاکستان کھپے کہنے والے چاہتے ہیں کہ وفاق کو نقصان پہنچانے والی ہر پالیسی واپس لی جائے، یہ منصوبہ متنازعہ بن چکا ، پیپلزپارٹی وفاق کو نقصان پہنچنے والا کوئی غیرذمہ دارانہ فیصلہ نہیں لینے دے گی، وفاق کو صوبوں سے لڑانے والوں کو آپ نے اور میں نے جواب دینا ہے۔