بھارت میں بچوں کی قربانی توہم پرستانہ رسومات اور تنترک عقائد کی بدترین مثال

بھارت میں بچوں کی قربانی توہم پرستانہ رسومات اور تنترک عقائد کی بدترین مثال
کیپشن: بھارت میں بچوں کی قربانی توہم پرستانہ رسومات اور تنترک عقائد کی بدترین مثال

ویب ڈیسک: آج کے جدید اور ترقی یافتہ دور میں بھی بھارت میں بچوں کی قربانی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں کے لوگ اب بھی اخلاقی اور معاشرتی زوال کا شکار ہیں۔

جھارکھنڈ کے ہزاری باغ ضلع کے بشنو گڑھ پولیس اسٹیشن کے علاقے کسمبا گاؤں میں ایک 12–13 سالہ کنواری لڑکی کے وحشیانہ قتل کے پیچھے توہم پرستانہ رسومات کا راز سامنے آیا ہے۔ پولیس کی تحقیقات کے مطابق، یہ قتل ایک انسانی قربانی کی رسم کے دوران کیا گیا، جس میں لڑکی کی اپنی ماں بھی ملوث پائی گئی۔

تحقیقات کے مطابق، ریشمی دیوی نے اپنے بیٹے کی صحت یابی کے لیے اپنی بیٹی کی قربانی دی۔ لڑکی کا گلا دبا کر قتل کیا گیا۔ قتل کے بعد، لڑکی کے جسم پر پتھر مارا گیا اور خون بہایا گیا تاکہ رسم مکمل ہو سکے۔

جھارکھنڈ پولیس کے مطابق، یہ واقعہ توہم پرستانہ رسومات اور تنترک عقائد کی بدترین مثال ہے۔

ماہرین کے مطابق ہندو انتہا پسندی اور آر ایس ایس کے اثرات بھارت میں سیکولر جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ کر رہے ہیں۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی مضبوط نگرانی اور سیکولر انسانی حقوق کے لیے مستقل عزم انتہائی ضروری ہے تاکہ مذہبی اور روایتی بنیاد پرستی کے رجحانات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس طرح کے رسومی جرائم اکثر طلسماتی اور تنترک روایات پر مبنی ہوتے ہیں اور بعض اوقات وہ گروپوں کی طرف سے منظم کیے جاتے ہیں جو ہندو توا نظریات اور آر ایس ایس اثرات سے متاثر ہوتے ہیں۔

Watch Live Public News