ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ منگل کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے مغربی کنارے کے بعض حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی بات کریں گے۔
امریکی صدر نے یہ بات نیتن یاہو سے ملاقات سے قبل وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک چھوٹا سا ملک ہے اور اس میں تبدیلی آنی چاہیے۔
ٹرمپ نے یہ اعلان بھی کیا کہ اس بات کی کوئی "ضمانت نہیں" کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری فائر بندی مضبوطی سے قائم رہے گی۔
بعد ازاں مشرق وسطی کے لیے ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو ویٹکوف نے جو ان کے برابر بیٹھے ہوئے تھے، کہا کہ "جنگ بندی اب تک مضبوطی سے قائم ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ حتمی طور پر ہم یرغمالیوں کو نکال لیں گے اور جانوں کو بچا لیں گے ... اور امید کرتے ہیں کہ پوری صورت حال کے حوالے سے ایک پر امن تصفیے تک پہنچ جائیں گے"۔
امریکی اخبار 'وال سٹریٹ جرنل' کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کی ہتھیاروں کی اگلی ضرورتوں کے پیش نظر اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری کے لیے کانگریس سے رجوع کر لیا ہے۔ اخبار نے بتایا ہے کہ اس اسلحہ کھیپ کی مالیت ایک ارب ڈالر ہو گی۔ اخبار کے مطابق ہتھیاروں کی اس کھیپ میں 1000 پاؤنڈ وزن کے 4700 بم بھی شامل ہیں جن کی مالیت 70 کروڑ ڈالر ہے۔ علاوہ ازیں کیتٹ پلر کے ساختہ فوجی بلڈوزروں کے ذریعے اسرائیلی ضرورت پوری کی جائے گی جن کی مالیت 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔
ادھر axios ویب سائٹ کے نمائندے نے پیر کے روز ایکس پلیٹ فارم پر بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو واشنگٹن کے دورے کی مدت بڑھا دیں گے، وہ اب ہفتے کے روز اسرائیل واپس آئیں گے۔
نیتن یاہو کے دفتر کے مطبق توقع ہے کہ نیتن یاہو منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات میں غزہ کی صورت حال، حماس کے پاس یرغمالی افراد اور خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مقابلے کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔ نیتن یاہو ملاقات میں اسرائیل اور مشرق وسطی کو درپیش اہم معاملات کو زیر بحث لائیں گے جن میں "حماس کے خلاف کامیابی" شامل ہے۔
امریکا روانگی سے قبل اتوار کے روز نیتن یاہو نے بتایا تھا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ تمام (اسرائیلی) یرغمالیوں کی رہائی یقینی بنانے اور دہشت گردی کے ایرانی محور سے نمٹنے جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادیوں میں غزہ میں فلسطینی تنظیم حماس اور لبنان میں حزب اللہ ملیشیا کے علاوہ یمن میں حوثی ملیشیا شامل ہے۔
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ امریکی صدر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد کسی بھی غیر ملکی سربراہ کے ساتھ پہلی ملاقات ہو گی اور اسرائیلی ریاست کے حوالے سے اس کی بڑی اہمیت ہے۔
ٹرمپ ، نیتن یاہو کے ساتھ اپنے قریبی تعلق سے جانے جاتے ہیں اگرچہ بعض مرتبہ وہ انھیں تنقید کا نشانہ بھی بناتے تھے۔ یہ جلد دورہ ٹرمپ کی جانب سے دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر اعظم کی سپورٹ کے حوالے سے ایک بھرپور اشارہ ہے۔ نیتن یاہو کو غزہ میں جنگ کے انتظامی امور کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
مشرق وسطی کے لیے امریکی نمائندے اسٹیو ویٹکوف مذاکرات میں شامل ہوئے اور انھوں نے غزہ معاہدے کو آخری خط تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے اسرائیل میں نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی۔
ایسے میں جب کہ غزہ کی پٹی میں فائر بندی دو ہفتوں سے جاری ہے، اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی فوجی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
غزہ کی جنگ کے آغاز کے بعد سے ہی مغربی کنارے میں پر تشدد کاررائیوں میں اضافہ دیکھا گیا جہاں اسرائیلی فوج نے تقریبا روزانہ کی بنیاد پر گرفتاریاں انجام دیں۔ اسی طرح فلسطینیوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کی پر تشدد کارروائیوں اور اسرائیلیوں کے خلاف فلسطینی حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔