ویب ڈیسک: اسکردو کے علاقے حسین آباد میں ایک نوعمر لڑکے کے ساتھ مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر کے نامزد ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق حسین آباد تھانے میں متاثرہ لڑکے کے اہلخانہ کی جانب سے دی گئی درخواست پر کارروائی عمل میں لائی گئی،ایس ایچ او حسین آباد اور ان کی ٹیم نے قانونی عمل کے تحت ملزمان کو گرفتار کرلیا، جبکہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ متاثرہ لڑکے کو انصاف فراہم کیا جاسکے۔
ہیومن رائٹس کمیشن کے صوبائی کوآرڈینیٹر اسرارالدین اسرار کے مطابق گلگت بلتستان میں بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک بڑی وجہ آگاہی کی کمی اور روایتی سماجی طرزِ عمل ہے، جس میں والدین اور معاشرہ بچوں پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے انہیں غیر محفوظ ماحول میں بھیج دیتے ہیں،جو کہ آج کل کے دور میں بلکل غلط ہے، اس حوالے سے والدین میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔
گلگت میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ قائم ہے، لیکن بیشتر والدین اور متاثرین ان اداروں سے ناواقف ہیں یا معاشرتی دباؤ کے باعث کیس رپورٹ کرنے سے گریز کرتے ہیں، اگر ہم جرائم پیشہ عناصر کو روکنا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے کیس رپورٹ کرنا ضروری ہے، کیونکہ جب تک متاثرین اور ان کے اہلخانہ آواز نہیں اٹھائیں گے، قانون حرکت میں نہیں آئے گا۔