ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم کو آئندہ دو برس میں 1 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔
اسلام آباد میں پاکستان۔ قازقستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے تاجروں کی بڑی تعداد کی شرکت خوش آئند ہے اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کے دورۂ پاکستان کو دوطرفہ تعلقات کے لیے اہم قرار دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں کو اپنی بندرگاہوں تک رسائی فراہم کر سکتا ہے، جبکہ قازقستان اپنی مصنوعات گوادر اور کراچی پورٹس کے ذریعے برآمد کر سکتا ہے۔ انہوں نے ریل اور سڑک رابطوں کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
وزیراعظم کے مطابق تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے پانچ سالہ روڈ میپ پر اتفاق ہو گیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے 37 معاہدے باہمی تعاون میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 23 برس بعد کسی قازق صدر کا یہ پہلا سرکاری دورہ پاکستان ہے۔
اس موقع پر صدر قازقستان قاسم جومارت توکایووف نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے بزنس فورم کے انعقاد پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت، سیاحت، زراعت، تعلیم، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
صدر توکایووف کا کہنا تھا کہ بین الحکومتی کمیشن کے ذریعے بزنس ٹو بزنس روابط کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ پاکستان اور قازقستان علاقائی اور عالمی روابط میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔