مودی کے10سالہ اقتدار میں اقلیتی خواتین کیخلاف جنسی زیادتی کے کیسز میں ہوشربا اضافہ

مودی کے10سالہ اقتدار میں اقلیتی خواتین کیخلاف جنسی زیادتی کے کیسز میں ہوشربا اضافہ
کیپشن: مودی کے10سالہ اقتدار میں اقلیتی خواتین کیخلاف جنسی زیادتی کے کیسز میں ہوشربا اضافہ

ویب ڈیسک: انتہا پسند مودی کے دور میں اقلیتی خواتین کی عزتیں غیر محفوظ ہوگئیں۔ اقلیتوں میں بالخصوص دلت خواتین کیخلاف جنسی تشدد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک بےبس والدہ نے بتایا کہ دلت ہونے کی وجہ سے میری بیٹی کو اونچی ذات کے ہندوؤں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعہ کا ذمہ دار میری بیٹی کو ہی قرار دیتے ہوئے ہمیں گاؤں والوں نے علاقہ بدر کردیا۔

خاتون نے واضح کہا کہ انہیں مودی سرکار سے انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں۔ 

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق اونچی ذات کے ہندو دلت خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ کے مطابق نیچی ذات کی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا گاؤں چھوڑنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ 

حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت کا نظام عدل بری طرح فیل ہو چکا ہے۔ جنسی زیادتی کرنے والے افراد کو سزا نہیں ملتی جبکہ متاثر خاندان انصاف کیلئے ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ 

آکسفورڈ ہیومن رائٹس ہب کا کہنا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ دلت کو انصاف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ 

ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ کا کہنا ہے کہ بھارتی آئین میں جنسی زیادتی کے قوانین موجود ہیں مگر پوری طرح نافذ نہیں۔ سینکڑوں دلت خواتین ہندو انتہا پسندوں کی ہوس کا نشانہ بن چکی ہیں۔ 

عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مودی کی سرپرستی میں بھارتی عدالتی نظام دلتوں کو حقوق فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ بھارت میں اقلیتی خواتین بالخصوص دلت خواتین کیخلاف جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ مودی سرکار کے دور میں خواتین غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔

Watch Live Public News