ویب ڈیسک: پنجاب کے محکمہ تعلیم نے ریٹائرمنٹ کے قریب اساتذہ کے لیے ( LPR) سے متعلق نئے قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں، ان نئی ایس او پیز (SOPs) کا مقصد ایل پی آر کے معاملات کو بہتر، شفاف اور بروقت نمٹانا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ تعلیم نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ نامکمل ایل پی آر درخواستیں اب قبول نہیں کی جائیں گی۔ ہر درخواست کے ساتھ مکمل چیک لسٹ شامل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نئے نظام کے تحت تمام دستاویزات کی ضلع ایجوکیشن آفیسر (DEO) یا متعلقہ چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) سے باقاعدہ تصدیق ضروری ہوگی۔
اس کے علاوہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر کیس میں واضح اور مخصوص سفارشات تحریری طور پر درج کریں۔
محکمہ تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی ایل پی آر کیس میں مطلوبہ دستاویزات مکمل نہ ہوئیں تو درخواست کو بغیر کسی جانچ کے واپس کر دیا جائے گا۔
ایل پی آر کے لیے درخواست دینے والے اساتذہ کو درج ذیل دستاویزات لازمی طور پر جمع کروانا ہوں گی، ان میں ’سروس بک، تقرری کے احکامات،ترقی (پروموشن) کے نوٹیفکیشن، تنخواہ کی (Slip), سروس کے دوران لی گئی تمام چھٹیوں کا مکمل ریکارڈ.
محکمہ تعلیم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اب ضلع سطح کے افسران کو ایل پی آر کیسز میں تاخیر پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، اور کسی بھی غیر ضروری تاخیر پر جواب دہی ہوگی, ان نئے اقدامات کا مقصد ریٹائرمنٹ کے قریب اساتذہ کو درپیش مشکلات کم کرنا اور ان کے معاملات کو مقررہ وقت میں مکمل کرنا ہے۔
دوسری جانب پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اہم نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کے مطابق ’اگر اساتذہ رضاکارانہ ریٹائرمنٹ (Voluntary Retirement) لے رہے ہیں اور جن کی سروس 26 سال سے کم ہے، تو ان کو LPR لیو انکیشمنٹ(چھٹیوں کے پیسے) نہیں ملیں گے۔
