(ویب ڈیسک )یورپ بھر میں ہزاروں مسافر پھنس گئے ہیں ، مواصلاتی نظام میں خرابی کے باعث یونان نے اپنی فضائی حدود بند کر دی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر پروازیں منسوخ اور تاخیر کا شکار ہو گئیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اتوار کی صبح ریڈیو کمیونیکیشن میں خلل پیدا ہونے کے بعد حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسئلہ کیوں پیش آیا، جس کے باعث پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔
کچھ روانہ ہونے والی پروازوں کو دوبارہ اجازت دے دی گئی ہے، تاہم آنے والی پروازوں کو اب بھی دوسرے ممالک کی طرف موڑا جا رہا ہے یا واپس روانگی کے مقام پر بھیجا جا رہا ہے۔
ایتھنز کا مرکزی ایئرپورٹ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جبکہ تھیسالونیکی ایئرپورٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
صرف ایتھنز ہوائی اڈے پر ہی 90 سے زائد پروازیں متاثر ہوئیں، اگرچہ بعد میں کچھ پروازیں دوبارہ شروع ہو سکیں۔
ایئر پورٹ کے ایک ملازم نے بی بی سی کو بتایا کہ اب فی گھنٹہ 35 طیاروں کو روانگی کی اجازت دی جا رہی ہے، لیکن اب بھی آنے والی پروازیں قبول نہیں کی جا رہیں۔
ڈبلن، بارسلونا اور پیرس سے روانہ ہونے والی پروازوں کو اپنے اصل ایئر پورٹ پر واپس بھیج دیا گیا، جبکہ کوپن ہیگن اور مالٹا سے آنے والی پروازیں مکمل طور پر منسوخ کر دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق، زیادہ تر آنے والی پروازوں کو منسوخ کرنے کے بجائے ترکی کی طرف موڑا جا رہا ہے۔
یونانی ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین، پاناگیوتس پساروس نے ای آر ٹی کو بتایا کہ تمام فریکوئنسیز "اچانک ختم ہو گئیں ،ہم فضا میں موجود طیاروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے تھے۔"
بعد ازاں نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ یونانی سیکیورٹی اداروں کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق مسئلہ ممکنہ طور پر ایتھنز کے قریب گیرانیا پہاڑوں میں واقع ایک اینٹینا کی خرابی کے باعث پیش آیا۔اٹلی، ترکی اور قبرص یونان کی مدد کر رہے ہیں تاکہ صورتحال کو سنبھالا جا سکے۔