مریم نوازکا ڈی ایچ کیو پاکپتن کا دورۂ، ڈی سی پاکپتن کو چارج چھوڑنے کا حکم،مزید سخت فیصلے

مریم نوازکا ڈی ایچ کیو پاکپتن کا دورۂ، ڈی سی پاکپتن کو چارج چھوڑنے کا حکم،مزید سخت فیصلے

ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خود ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن پہنچ گئیں، وزیراعلی مریم نواز شریف نے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے مختلف وارڈ زکا دورہ کیا، مریضوں اور اہل خانہ نے ہسپتال میں بد نظمی ، غفلت اور دیگر شکایات کے انبار لگا دیے ۔

مریضوں کے لواحقین کا کہنا تھا کہ میڈیسن موجود ہونے کے باوجود فارمیسی سے گٹھ جوڑ کرکے دوائیاں باہر سے منگوائی جارہی تھیں، ایم ایس اور دیگر زمہ داروں نےحقائق کی پردہ پوشی کی کوشش کی،  وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سخت ایکشن لیا، سی او ہیلتھ پاکپتن ڈاکٹر سہیل اصغر اور ایم ایس ڈاکٹر عدنان غفار کےخلاف مجرمانہ غفلت پرمقدمہ درج کرکے، گرفتار کرنے کی ہدایت کردی۔

ساہیوال سے نئے ایم ایس کو ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن تعینات کردیا گیا، مریضوں اور اہل خانہ سے 50 روپے اور 100 روپے پارکنگ فیس لینے کی شکایت ملیں، اوور چارجنگ کی شکایت پر پارکنگ کمپنی کے مالک اور انچارج کی گرفتاری کی ہدایت  کی گئی۔

پرائیویٹ لیب سے ملی بھگت کرنے پر تین لیب ٹیکنیشن کو فارغ کیا گیا، پاکپتن ہسپتال کےعملے سے  ملی بھگت پر تین پرائیویٹ لیب کو سیل کیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی سی پاکپتن کو چارج چھوڑنے کا حکم دے دیا، وزیراعلی مریم نواز شریف نے ہسپتال کے ایکوپمنٹ آڈٹ کا حکم بھی دیا۔

مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ذمہ داروں کو احساس دلانے کے لئے سخت فیصلے ضروری ہیں، مریضوں نے میڈیسن باہر سے منگوانے کی شکایت کے انبار لگا دئیے۔
 دفاتر میں اے سی چلنے، وارڈز اور مریضوں کے اے سی بند ہونے پر برہمی کا اظہار کیا، سٹور میں موجود ہونے کے باوجود میڈیسن نہ ملنے پر سخت سرزنش کی۔

سرکاری ہسپتالوں میں کوڈ ریڈ اور کوڈ بلیو سسٹم نافذ کرنے کا حکم بھی دیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ ہسپتالوں میں دوران ڈیوٹی ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل سٹاف کے موبائل استعمال پر پابندی کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

 وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نےہسپتالوں میں رابطے کے لئے پیجر سسٹم نافذ کرنے کی ہدایت کی، وزیراعلیٰ پنجاب کاکہنا تھا کہ تمام انکوائریز کے فیصلے ایک ہفتے کے اندر کیے جائیں، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہسپتال کے مختلف وارڈز،سٹور اور لیب کا معائنہ کیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے وارڈز میں زیر علاج مریضوں کے پاس جاکر فرداًفرداً مزاج پرسی کی، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہسپتال کی انتظار گاہ میں بیٹھے مریضوں اور اہل خانہ سے بات چیت کرکے ادویات کی فراہمی اور علاج کے بارے میں دریافت کیا۔

مریم نواز شریف نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سٹور میں دوائیاں موجود ہیں اور پرچی پر لکھ کر میڈیسن باہر سے منگوائی جاتی ہیں، 100ارب روپے میڈیسن کے لئے دے رہے ہیں، عوام کو دوائی کیوں نہیں مل رہی؟

ڈی ایچ کیو ہسپتال میں مفت ادویات کے لئے اعلان نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا، کہا کہ کوشش کریں توحالات کا پتہ چل سکتا ہے، ہسپتال کے ایک راؤنڈ میں صورتحال سامنے آگئی۔

ڈی ایچ کیو میں 90 فیصد مریض باہر سے ادویات منگوانے کی شکایت کررہے ہیں،  درکار مشینری اور آلات پیک پڑے ہوئے ہیں لیکن استعمال میں نہیں لائے جاتے۔

ہسپتالوں اور اداروں میں کام نہ کرنے والے قوم کے اصل ملزم ہیں، ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی نہیں، خدمت کے احساس کا فقدان ہے،کیا لوگ  ہسپتالوں میں مرنے کے لئے آتے ہیں؟مجرمانہ غفلت پراللہ تعالیٰ کو بھی جواب دینا ہوگا۔ مجھ سے بچ سکتے ہیں اللہ کی پکڑ سے کیسے بچیں گے؟

مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ دوسروں کے بچوں کو اپنی نظر سے دیکھنا سیکھیں، قتل کرنے کے لئے ہتھیار ضروری نہیں ہوتے، مجرمانہ غفلت بھی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے ایم ایس اپنی انتظامی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے، ہسپتال کے کنسلٹنٹ ڈاکٹروں کی دیکھ بھال کے لئے مناسب وقت نہیں دے رہے، ہسپتال میں درکار آلات سٹور میں موجود ہیں، استعمال میں نہیں لائے گئے۔

مریضوں کے علاج میں تاخیر کی وجہ کنسلٹنٹ، ڈاکٹروں اور عملے کی بے حسی ہے، ماہر ڈاکٹرر ات کے وقت راؤنڈ نہیں لگاتے، پیڈزانکوبیٹر موجود ہیں مگر فنکشنل نہیں، ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن ہیلتھ کیئر کمیشن کے قواعدو ضوابط پوری طرح فالو نہیں کیے جارہے ہیں۔

انکوائری رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں مریضوں کے لئے ایمرجنسی پروٹوکول پر عملدر آمد نہیں دیکھا گیا، ڈی ایچ کیو ہسپتال کریٹیکل کا سٹاف ٹرین نہیں۔

اس کے علاوہ پاکپتن کے ڈسٹرکٹ اسپتال میں 20 بچوں کی اموات کے دلخراش واقعے پر بڑی پیش رفت سامنے آئی، ضلعی اور صوبائی سطح پر اعلیٰ سطحی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد سی ای او ہیلتھ پاکپتن سہیل اصغر اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) عدنان غفار کو اسپتال کے میٹنگ روم سے حراست میں لے لیا گیا۔

Watch Live Public News