آزاد کشمیر حکومت نے مہاجرین نشستوں کے معاملے پر آئینی رہنمائی کیلئےسپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

آزاد کشمیر حکومت نے مہاجرین نشستوں کے معاملے پر آئینی رہنمائی کیلئےسپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

(ویب ڈیسک) آزاد کشمیر حکومت نے مہاجرین نشستوں کے معاملے پر آئینی و قانونی رہنمائی کے لیے سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر سے رجوع کر لیا۔

حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے دائر ریفرنس پر سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر کا فل کورٹ کل سماعت کرے گا۔ مہاجرین نشستوں سے متعلق ریفرنس کی سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے فل کورٹ کرے گا۔

خیال رہے کہ حکومت آزاد کشمیر نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر سپریم کورٹ سے جلد سماعت کی استدعا کی تھی۔

عدالت العظمیٰ نے مہاجرین نشستوں کے آئینی و قانونی مستقبل سے متعلق اہم ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔سپریم کورٹ نے حکومتی ریفرنس پر سماعت کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

چیف جسٹس راجہ سعید اکرام کی سربراہی میں فل کورٹ ریفرنس کی سماعت کرے گا۔ فل کورٹ بینچ میں جسٹس رضا علی خان اور جسٹس خالد یوسف چوہدری بھی شامل ہوں گے۔

سپریم کورٹ مہاجرین نشستوں کے معاملے کا آئین، قانون اور مروجہ عدالتی اصولوں کی روشنی میں جائزہ لے گی۔

مہاجرین نشستوں کے حوالے سے جاری سیاسی و آئینی بحث اب سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے سامنے پہنچ گئی۔ ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے مہاجرین نشستوں کے مستقبل کے تعین میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور متعلقہ حلقوں کی نظریں سپریم کورٹ کی کل ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں ۔ مہاجرین نشستوں سے متعلق اہم آئینی سوالات پر سپریم کورٹ کا فل کورٹ تفصیلی غور کرے گا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے دی جانے والی رائے آئندہ قانونی و آئینی پیش رفت کے لیے رہنما اصول فراہم کرے گی۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات پر  9 جون کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

Watch Live Public News