انجری کےدوران قومی آل راؤنڈر بورڈ سےدلبرداشتہ، خاموشی توڑ دی

انجری کےدوران قومی آل راؤنڈر بورڈ سےدلبرداشتہ، خاموشی توڑ دی
کیپشن: انجری کےدوران قومی آل راؤنڈر بورڈ سےدلبرداشتہ، خاموشی توڑ دی

ویب ڈیسک:(محمدشکیل) پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے والے آل راؤنڈر عامر جمال نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے رویے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انجری کے دوران کسی نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔

 تفصیلات کے مطابق پبلک نیوز سے خصوصی گفتگو میں عامر جمال نے کہا کہ گزشتہ سال ان کے کیریئر کا نہایت مشکل وقت تھا کیونکہ وہ پہلی مرتبہ انجری کا شکار ہوئے تھے، جس نے انہیں جسمانی اور ذہنی طور پر بہت متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "میرے پاس بہت کچھ ہے کہنے کو، لیکن کہنا نہیں چاہ رہا۔"

انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ انگلینڈ میں اپنی ذاتی کاوشوں اور خرچ پر 6 ہفتے علاج کے لیے گئے، جہاں سے مکمل فٹ ہو کر واپس آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "اب جتنا زیادہ کھیلوں گا، اتنا زیادہ ردھم میں آ جاؤں گا۔"

انجری کے دوران بورڈ کی جانب سے کسی قسم کی معاونت یا رابطے کے سوال پر عامر جمال کا کہنا تھا کہ "پی سی بی کی طرف سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا حالانکہ میں نے بتایا تھا کہ انجری کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا اور ٹیم سے بار بار ڈراپ ہو رہا ہوں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں مسلسل کہا گیا کہ ان کی رفتار (پیَس) کم ہے لیکن اگر واقعی کوئی مسئلہ تھا تو بورڈ کو چاہیے تھا کہ باقاعدہ مانیٹر کرتا۔ انگلینڈ میں سب کچھ خود کیاکسی نے کوئی رابطہ نہیں رکھا اگربورڈ رابطہ کرے گا تو ضرور انہیں بتاؤں گا ایساکوئی مسئلہ نہیں ہے۔

عامر جمال کی گفتگو نے ایک بار پھر کرکٹرز اور پی سی بی کے درمیان رابطے کے فقدان اور کھلاڑیوں کے فلاح و بہبود سے متعلق پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

کراچی  کنگز کمبی نیشن

کسی ٹیم کے لیے کمبی نیشن بڑا اہم ہوتا ہے ،شروعات کے میچز میں ٹیمیں مختلف کمبی نیشن آزماتی ہیں۔۔ اب ہماری کوشش ہے کہ فائنل فور تک پہنچ جائیں  کیونکہ اب ہمارا وننگ کمبی نیشن بن چکا ہے۔

ڈیوڈوارنرسے کیا سیکھا

ڈیوڈ وارنر کی کپتانی  پر عامر جمال نے کہاکہ ہمارے لئے اچھا ہے  بلکہ نوجوان کھلاڑیون کے لئے بہت اچھا ہے  کیونکہ  آپ جب غیرملکی کھلاڑی کی کپتانی میں کھیلتے ہیں تو مختلف چیزیں سیکھنے کو ملتی ہیں، وارنر دنیا بھر  میں کھیل چکے ہیں وہ   بیٹنگ اور فیلڈنگ میں اپنا تجر بہ شیئر کرتے رہتے ہیں اور بڑے کمال کپتان ہیں۔

پی ایس ایل میں بابر اعظم اور ڈیوڈ وارنر کی کپتانی میں کتنا فرق

دونوں  مختلف مائنڈ سیٹ کے ساتھ کپتانی کرتے ہیں، بابراعظم نے بھی ہمیشہ سپورٹ کیا ہے اور پشاور زلمی کا جیسا ماحول  بنا کے رکھا وہ بہت شاندار تھا کہیں کوئی لیگ پُلنگ ٹائپ کی چیزیں نہیں تھیں۔ جہاں تک وارنر کی بات  ہے  تو وہ بھی بہت زیادہ سپورٹ کرتے ہیں اور ایگریسیو مائنڈ سیٹ کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ انکی قیادت میں  ڈریسنگ روم کا ماحول اچھا ہے۔

تینوں فارمیٹ   کھیلیں گے یا صرف ایک  

تینوں فارمیٹ کھیلنے پر عامر جمال نے کہاکہ بطور پروفیشنل وہ  پاکستان کے ہمیشہ ہی دستیاب ہیں اور جہاں تک لوگ کسی  ایک فارمیٹ کھیلنے کا ٹیگ لگا دیتے ہیں تو اسکی آج تک کسی کھلاڑی کو سمجھ نہیں آئی۔ میں نےپاکستان کے لئے ڈیبیو  ٹی ٹوئنٹی  میں کیا تھا، 4 سالوں میں صرف 4 میچ کھیلنے کا موقع ملا ۔شاید ٹیگ وہی لو گ لگاتے ہیں جنہوں نے نہیں کھلانا ہوتا۔

قومی ٹیم میں آل راؤنڈر  کی ضرورت

پاکستان کے لئے  کھیلنا ہمیشہ ترجیح رہی ہے۔ کہیں بھی کسی بھی ٹیم کے خلاف  ہو پاکستان کے لئے ہر وقت دستیا ب ہیں ۔  بنگلہ دیش کےخلاف سیریز میں سلیکشن کمیٹی کا فیصلہ  قبول کریں گے چاہے وہ جو بھی ہو۔

Watch Live Public News

اسپورٹس رپورٹر

 محمد شکیل خان ایک نوجوان اسپورٹس رپورٹر ہیں جو نہ صرف فیلڈ میں متحرک ہیں بلکہ دنیا بھر میں ہونے والے اسپورٹس ایونٹس اور خصوصا کرکٹ کے حوالے سے اپنے قارئین کو باخبر رکھا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔