(ویب ڈیسک ) یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے پیٹرن ان چیف ایس ایم تنویر نے آئندہ مانیٹری پالیسی میں سنگل ڈیجٹ مارک اپ ریٹ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ پچھلی مانیٹری پالیسی میں بھی سنگل ڈیجٹ مارک اپ کی امید کر رہا تھا، لیکن بدقسمتی سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔
اپنے بیان میں ایس ایم تنویر نے تشویش کا اظہار کیا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود کم نہ کرنا معیشت کی بحالی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مانیٹری پالیسی لیکویڈیٹی کو محدود کر رہی ہے اور قرض لینے کی لاگت بڑھا رہی ہے، جو کہ کاروبار اور صنعتوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کی کوششیں اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے اقدامات، جو معاشی بحالی کے لیے کیے جا رہے ہیں، وہ اسٹیٹ بینک کی عدم دلچسپی کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی پالیسی، جس میں ڈبل ڈیجٹ میں شرح سود برقرار رکھی گئی ہے، حکومت کی اقتصادی ترقی کی کوششوں کے برعکس ہے۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی پہلے ہی سست روی کا شکار ہے اور اگر شرح سود کو سنگل ڈیجٹ تک لایا جائے تو اس سے سرمایہ کاری بڑھے گی، کاروباری سرگرمیاں تیز ہوں گی اور مجموعی طور پر معیشت کو فائدہ ہوگا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسٹیٹ بینک فوری طور پر مارک اپ ریٹ کو سنگل ڈیجٹ تک لے آئے تاکہ کاروباری برادری کی توقعات پوری کی جا سکیں اور ملک کی معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنگل ڈیجٹ مارک اپ ریٹ کاروباروں اور صنعتوں کو ریلیف فراہم کرے گا، جس سے وہ مناسب شرح پر قرض حاصل کر کے اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ کاروباری طبقہ آئندہ مانیٹری پالیسی کے اعلان کا شدت سے انتظار کر رہا ہے اور امید کر رہا ہے کہ اسٹیٹ بینک ان کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کرے گا جو معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہوں۔