روسی تیل کی خریداری کا معاملہ، ٹرمپ کا مودی سرکار پر مزید دباؤ ڈالنے کا عندیہ

روسی تیل کی خریداری کا معاملہ، ٹرمپ کا مودی سرکار پر مزید دباؤ ڈالنے کا عندیہ
کیپشن: روسی تیل کی خریداری کا معاملہ، ٹرمپ کا مودی سرکار پر مزید دباؤ ڈالنے کا عندیہ

 ویب ڈیسک: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت پر سخت ٹیرف عائد کرنے کا مقصد روس کی جنگی کوششوں کی مالی اعانت روکنا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں نے روس کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا۔ انہوں نے صحافی سے سوال کیا کہ آپ کو نہیں لگتا کہ ہم نے روسی تیل خریدنے والے سب سے بڑے ملک بھارت پر ثانوی پابندیاں لگائی جس سے روس کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کو کہا تھا کہ اگر وہ روس سے تیل خریدنا بند نہیں کرتا تو اُس کو بڑا نقصان ہو گا اور ایسا ہی ہوا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ابھی فیز ٹو اور تھری بھی ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین میں موجود روسی صدر پیوٹن نے کہا تھا کہ اگر امن معاہدہ نہ ہوا تو یوکرین کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ اُن کی انتظامیہ کا بھارت پر عائد ٹیرف میں کمی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بھارت کی تجارتی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ برسوں تک بھارت نے امریکا کے ساتھ یکطرفہ تجارت کی جس سے امریکی صنعت کاروں کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اور بھارت کے تعلقات اچھے ضرور ہیں لیکن تجارتی میدان میں انصاف کی کمی رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے بھارت پر کبھی زیادہ ٹیرف نہیں لگائے، تاہم بھارت کی جانب سے امریکی مصنوعات پر دنیا کے بلند ترین محصولات عائد کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی سخت تجارتی پالیسیوں کے نتیجے میں امریکی کمپنیوں کو مشکلات کا سامنا رہا اور اس عدم توازن کو ختم کرنے کیلئے موجودہ امریکی حکومت نے سخت اقدامات اٹھائے۔

Watch Live Public News