یوم استحصال کشمیر: کیا عالمی ضمیر کبھی جاگےگا؟

یوم استحصال کشمیر: کیا عالمی ضمیر کبھی جاگےگا؟
کیپشن: یوم استحصال کشمیر: کیا عالمی ضمیر کبھی جاگےگا؟

ویب ڈیسک: مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں سے جاری ظلم و ستم پر دنیا کی خاموشی ایک تلخ سوال بن چکی ہے۔ کیا عالمی ضمیر واقعی سو چکا ہے، یا صرف مصلحت کا شکار ہے؟

اقوام متحدہ: قراردادیں بے اثر، عمل ندارد

1948 سے اقوام متحدہ کشمیر پر متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے، جن میں کشمیری عوام کو استصوابِ رائے کا حق دینے کی بات کی گئی۔ مگر آج تک ان قراردادوں پر کوئی عملی پیشرفت نہیں ہو سکی۔  

سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ " اقوام متحدہ کا کردار صرف ایک فائل میں بند وعدہ بن کر رہ گیا ہے۔"

او آئی سی: بیانات تو ہیں، عملی اقدامات کہاں؟

اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کشمیر کے حق میں درجنوں قراردادیں منظور کر چکی ہے، لیکن مسلم ممالک کے تجارتی و سفارتی مفادات نے ان قراردادوں کو بے اثر کر دیا ہے۔  

کشمیر کے عوام بارہا یہ سوال اٹھا چکے ہیں کہ " امت مسلمہ کہاں ہے؟"

مغربی میڈیا اور دوہرا معیار

انسانی حقوق پر آواز اٹھانے والے مغربی میڈیا ادارے فلسطین یا یوکرین پر فوری ردعمل دیتے ہیں، مگر کشمیر جیسے انسانی المیے پر اکثر خاموش نظر آتے ہیں۔ جب کبھی رپورٹنگ ہوتی بھی ہے، تو اسے "تنازعہ" کہہ کر مظلوم و ظالم کو برابر ٹھہرا دیا جاتا ہے۔

عالمی طاقتیں: مفادات مقدم، انصاف مؤخر

امریکا، برطانیہ، فرانس اور دیگر عالمی قوتیں بھارت کو ایک معاشی و تزویراتی شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی کے باوجود کوئی مؤثر دباؤ نہیں ڈالا جاتا۔

کشمیر اب بھی انصاف سے محروم

2025 تک آ کر بھی کشمیری عوام عالمی برادری کی سنجیدگی کے منتظر ہیں۔ سوال یہی ہے کہ "کیا آزادی صرف طاقتوروں کا حق ہے؟ کمزور اقوام کی آواز کب سنی جائے گی؟"

Watch Live Public News