ٹرمپ کا کارٹون شائع کیوں نہیں کیا؟واشنگٹن پوسٹ کی کارٹونسٹ احتجاجا مستعفی

ٹرمپ کا کارٹون شائع کیوں نہیں کیا؟واشنگٹن پوسٹ کی کارٹونسٹ احتجاجا مستعفی
کیپشن: ٹرمپ کا کارٹون شائع کیوں نہیں کیا؟واشنگٹن پوسٹ کی کارٹونسٹ احتجاجا مستعفی

ویب ڈیسک: واشنگٹن پوسٹ کی ایوارڈ یافتہ سیاسی کارٹونسٹ نے ایک کارٹون کے بعد استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے جس میں اخبار کے ارب پتی مالک کو ڈونلڈ ٹرمپ کے مسترد کیے جانے سے پہلے گھومتے ہوئے دکھایا گیا۔

کارٹونسٹ این ٹیلنس نے گذشتہ روز پوسٹ کیا کہ یہ پہلا موقع تھا جب اس کے ”کسی کارٹون کو اس وجہ سے نہیں چھاپہ گیا کیونکہ میں نے اسے (مالک کو) اپنے قلم کا نشانہ بنایا۔“

کارٹون میں ایمیزون کے بانی اور واشنگٹن پوسٹ کے مالک ’جیف بیزوس‘ کے ساتھ ساتھ فیس بک اور میٹا کے بانی مارک زکربرگ اور میڈیا مالکان کو ٹرمپ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے اور پیسوں کے تھیلے اٹھائے ہوئے دکھایا گیا۔

یاد رہے کہ ایک نیوز ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے حال ہی میں ٹرمپ کے ساتھ 15 ملین ڈالر کا معاہدہ طے کیا جب اس نے نیویارک میں اپنے جنسی استحصال کے مقدمے کی رپورٹنگ پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا۔

ٹیلنس نے لکھا کہ اس کے پچھلے کارٹون بھی مسترد کیے گئے تھے، یہ پہلی بار تھا جو اس کے ”نقطہ نظر“ کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ گیم چینجراور آزاد صحافت کے لیے خطرہ ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ جس کا نعرہ ہے ”جمہوریت اندھیرے میں مر جاتی ہے“ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ کسی بھی ”بدنام قوت“ کی وجہ سے ٹیلنس کا کام مسترد نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ ایپل کے سی ای او ٹم کک سے لے کر بیزوس زکربرگ تک با اثر افراد کا ایک گروپ ٹرمپ سے ان کی فلوریڈا اسٹیٹ میں ملنے گیا، جبکہ ایلون مسک، بااثر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے مالک اور دنیا کے امیر ترین شخص منتخب صدر کے قریبی مشیروں میں سے ایک ہیں۔

ایمیزون اور میٹا دونوں نے نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ کے افتتاحی فنڈ میں ایک ملین ڈالر کے عطیات کا اعلان کیا ہے۔

بیزوس نے صدارتی انتخابات سے عین قبل اس وقت ہلچل مچا دی جب انہوں نے برسوں کی روایت کو توڑا اور امیدوار کی توثیق کرنے والی پوسٹ کے خلاف فیصلہ دیا۔

کارٹونسٹ این ٹیلنس نے اپنے کام کی مہارت کے باعث کئی انعامات اور ایوارڈز جیتے ہیں، اور وہ 2008 سے اس پوسٹ کے لیے کام کر رہی تھیں۔

امریکی میڈیا نے جارحانہ انداز میں ٹرمپ کی افراتفری کی پہلی مدت کا احاطہ کیا ہے، جس میں دو مواخذے شامل تھے اور 2020 کے انتخابات میں ان کی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کے ساتھ ختم ہوا۔

یاد رہے کہ نومبر 2023 میں کملا ہیرس کو شکست دینے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنے حلف برداری کی تیاری کر رہے ہیں، ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ سی ای او، بشمول میڈیا، اچھے تعلقات استوار کرنے کے خواہشمند ہیں۔

Watch Live Public News