ویب ڈیسک: بھارت نے امریکہ کی جانب سے گاڑیوں اور آٹو پارٹس پر 25 فیصد درآمدی محصولات کے جواب میں عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں باضابطہ شکایت دائر کرتے ہوئے جوابی محصولات عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ امریکی اقدامات سے اس کی تقریباً 2.89 ارب ڈالر کی برآمدات متاثر ہوں گی۔
بھارتی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے’’ بھارت اپنے تجارتی مفادات کو پہنچنے والے نقصان کے مساوی طور پر امریکہ سے رعایتیں یا دیگر ذمہ داریاں معطل کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘‘
نوٹیفکیشن کے مطابق، امریکہ کی جانب سے جو ٹیکسز لاگو کئے گئے ان کی مجموعی مالیت تقریباً725 ملین ڈالر ہوگی، جس کے جواب میں بھارت بھی اتنی ہی مالیت کی ڈیوٹی امریکی مصنوعات پر عائد کرے گا۔
تاہم، بھارت نے یہ واضح نہیں کیا کہ کس شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے گا یا کن اشیاء کو اس دائرہ کار میں شامل کیا جائے گا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان ایک ممکنہ تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 9 جولائی کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے، جس کے بعد انہوں نے بھارت سے درآمد ہونے والی تمام اشیاء پر 26 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، بھارت نے امریکہ کے لیے اپنی بعض بلند نرخوں والی درآمدی ڈیوٹیاں کم کرنے کا اشارہ دیا ہے، لیکن زرعی اور ڈیری شعبے میں امریکی مطالبات پر اب تک کوئی واضح لچک نہیں دکھائی۔
ماہرین کے مطابق، بھارت کی جانب سے WTO میں یہ اقدام نہ صرف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی ہے بلکہ امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں بہتر سودے بازی کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ بھارت کے اس ردعمل کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور آئندہ دنوں میں تجارتی تعلقات کیسا رخ اختیار کرتے ہیں۔